انوارالعلوم (جلد 12) — Page 384
۳۸۴ اللہ تعالیٰ کے فضل کا شکریہ اور آئندہ کیلئے جماعت کو ہدایت پہلی تاریخ کو ادا ہو سکیں تو اس کیلئے قریباً پچاس ہزار کی ضرورت ہے- جو جماعتیں ابھی اپنے چندہ خاص کو ادا نہیں کر سکیں اگر وہ ہمت کر کے اپنے اپنے فرض سے سبکدوش ہو جائیں تو میں خیال کرتا ہوں کہ اس قدر رقم اور آ سکتی ہے کہ یہ قرض بھی بغیر کسی اور تحریک کے ادا ہو سکے- پس میں ان تمام دوستوں اور جماعتوں کو جو اس وقت تک اپنا حصہ یا بالکل ادا نہیں کر سکے یا کچھ حصہ ادا کر سکے ہیں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ بھی ایثار اور قربانی کی روح پیدا کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری ادا کر دیں تا کہ اس سال گذشتہ بوجھوں سے سلسلہ پوری طرح آزاد ہو جائے اور وہ لوگ بھی اگر السابقون الاولون میں شامل نہیں ہو سکے تو اصحاب الیمین میں تو شامل ہو سکیں کہ یہ ثواب بھی کم ثواب نہیں ہے- یاد رکھنا چاہئے کہ یہ بوجھ زائد بوجھ نہیں بلکہ ان کے بھائی پچھلے تین ماہ میں یہ بوجھ اٹھا چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے وارث ہو چکے ہیں- پس کوئی وجہ نہیں کہ وہ اس بوجھ کو جسے جماعت کا ایک حصہ اٹھا چکا ہے نہ اٹھا سکیں- صرف دل میں اخلاص اور دماغ میں ارادہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے - دنیا کی اکثر تکلیفیں اور آرام صرف ذہنی کیفیتوں کا ظہور ہوتے ہیں- انسان جس نقطہنگاہ سے ایک امر کو دیکھتا ہے اس کے مطابق اس کے اثر کو قبول کرتا ہے- اگر اسے بوجھ سمجھ کر دیکھتا ہے تو وہ اسے بوجھ محسوس ہونے لگتا ہے اور اگر اسے احسان سمجھ کر غور کرتا ہے تو اس کے دل میں اس کام اور اس قربانی پر بشاشت اور خوشی محسوس ہونے لگتی ہے- غرض ولمن خاف مقام ربہ جنتان ۱؎ اور وان منکم الا واردھا ۲؎ ] کے ارشاد الہی کے مطابق جنت کا دروازہ اور اسی طرح دوزخ کا دروازہ اسی دنیا سے انسان کے دل میں کھل جاتا ہے- اور یہ دوزخ اور جنت انسان کے اپنے ہاتھ سے تیار کی ہوئی ہوتی ہیں- پس اس نقطہ نگاہ کو مایوسی اور بزدلی کے اثر کے نیچے لا کر اپنے لئے خود دوزخ تیار نہ کرو بلکہ بشاشت ایمانی اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جو مومنوں پر نازل ہوتے ہیں مدنظر رکھتے ہوئے اپنے دل میں دینی قربانیوں پر ایسی خوشی پیدا کرو کہ اسی دنیا میں آپ کیلئے جنت کا دروازہ کھل جائے- تا آپ لوگ خود بھی اور آپ کی اولادیں اللہ تعالیٰ کی جنت کی حصہ دار ہوں‘ اپنے ہاتھوں دہکائی ہوئی آگ کی بھینٹ نہ ہوں- میں ان دوستوں کو بھی جو چندہ خاص ادا کر چکے ہیں نصیحت کرتا ہوں کہ چندہ خاص ستمبر‘