انوارالعلوم (جلد 12) — Page 264
۲۶۴ زمینداروں کی اقتصادی مشکلات کا حل کرنے کے لئے تیار ہوں اور عارضی طور پر وہ ہر قسم کی تکالیف اٹھانے پر آمادہ ہو جائیں- اگر اس قسم کی کوئی تجویز زمینداروں نے نہ کی تو ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ وہ اور ان کی اولادیں کبھی بھی غلامی سے آزاد نہیں ہو سکتیں- آئندہ کیلئے سود کی حد بندی کر دی جائے پچھلے قرضے کی ادائیگی کے علاوہ آئندہ کے لئے بھی زمینداروں کو گورنمنٹ پر زور دینا چاہئے کہ ۱۲ فیصدی سے زائد کسی صورت میں سود لینے کی اجازت نہ ہو اس سے زائد سود عدالتیں بھی نہ دلوائیں- میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ رقم بھی بہت زیادہ ہے- لیکن چونکہ اس وقت تک کوئی حد بندی نہیں اس لئے ہو سکتا ہے کہ فی الحال اس شرح پر اتفاق کر لیا جائے کیونکہ جب تجارتی کمیٹیاں رات دن محنت کرنے کے باوجود سات آٹھ فیصدی منافع کو کافی منافع سمجھتی ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ سود خوار کو اس سے زائد کا حق دار قرار دیا جائے- منافع تو وہی ہو سکتا ہے جو منافع میں سے ادا کیا جائے- اگر تجارت میں فرض کرو کہ دس فیصدی یا پندرہ فیصدی منافع زیادہ سے زیادہ آتا ہے تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ قرض لینے والا پانچ فیصدی سے ساڑھے سات فیصدی تک ہی قرضدار کو ادا کر سکتا ہے کیونکہ منافع کا کچھ حصہ خود اس کے خرچ کے لئے بھی چاہئے- اور بارہ فیصدی قرضہ پر ہمیں ماننا پڑے گا کہ ۲۴ فیصدی منافع قرض لینے والے کو آئے لیکن زمیندارہ میں تو پانچ فیصدی سے زائد منافع نہیں آتا- اور وہ زمیندار جو پانچ فیصدی خود کماتا ہے بارہ فیصدی سود خوار کو تبھی دے سکتا ہے جب سات فیصدی رقم وہ اپنی جائیداد میں سے ادا کرے- جس کے معنی یہ ہیں کہ اگر وہ بارہ فیصدی سالانہ پر قرض لے تو پندرہ سال میں اس کی اصل جائداد بھی سود خوار کے گھر چلی جائے- اور جو شرح اس وقت سود خوار لیتے ہیں وہ تو اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ اگر زمیندار اپنی جائیداد کے مطابق قرض لے تو تین چار سال تک اس کی جائیداد صرف سود کی ادائیگی میں خرچ ہو جاتی ہے- پس جہاں یہ ضروری ہے کہ اپنے پچھلے قرضوں کا فیصلہ کر لیا جائے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ گورنمنٹ پر زور دے کر آئندہ سود کی شرح بھی مقرر کرا لی جائے- جو زیادہ سے زیادہ ۱۲ فیصدی ہو- زور یہی دینا چاہئے کہ اس سے کم ہو- زمینداروں کی متفقہ کوشش کی ضرورت اگر زمیندار متفقہ طور پر کوشش کریں تو اس مطالبہ کو چند مہینوں کے اندر منوا لینا