انوارالعلوم (جلد 12) — Page 262
۲۶۲ زمینداروں کی اقتصادی مشکلات کا حل میں نے اپنے مضمون کی ابتداء میں یہ کہا تھا کہ یہ رسوم ہی زمینداروں کی تباہی کا موجب نہیں اس کے یہ معنی نہ تھے کہ رسوم کا زمینداروں کی تباہی میں کچھ دخل نہیں‘ بلکہ یہ مطلب تھا کہ صرف یہی سبب ان کی تباہی کا نہیں ہے- مگر اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ سبب بھی بہت کچھ زمینداروں کی تباہی کا موجب ہو رہا ہے- پس زمینداروں کو ایسی انجمنیں بھی بنانی چاہئیں جن کے ذریعہ سے بد رسوم کر مٹایا جائے اور شادی بیاہ کے اخراجات کم کئے جائیں- ان رسوم کے مٹانے سے بھی زمینداروں کی اقتصادی حالت بہت کچھ درست ہو سکتی ہے- زمینداروں کی تباہی کا سب سے بڑا سبب سب سے آخر میں میں اس سبب کی طرف توجہ دلاتا ہوں جو سب سے زیادہ زمینداروں کی اخلاقی اور اقتصادی حالت کی تباہی کا موجب ہو رہا ہے جو یہ ہے کہ زمیندار اس قدر قرض کے نیچے دبے ہوئے ہیں کہ وہ پیداوار سے اس کا سود بھی پوری طرح ادا نہیں کر سکتے- بیان کیا جاتا ہے کہ اس وقت زمینداروں پر ایک ارب تئیس کروڑ روپیہ کا قرض ہے- جس کے معنے یہ ہیں کہ قریباً ڈیڑھ کروڑ ایکٹر زمین فروخت کر کے اس قرض کو ادا کیا جا سکتا ہے- جہاں تک میں سمجھتا ہوں پنجاب کی صحیح طور پر قابل کاشت زمین اس سے کم ہی ہو گی- پس گو بظاہر زمیندار اپنی زمینوں کے مالک نظر آتے ہیں لیکن اگر انہیں اپنے قرض ادا کرنے پر مجبور کیا جائے تو وہ اپنی سب زمینیں فروخت کر کے بھی مقروض کے مقروض ہی رہیں گے- موجودہ حالات میں یہ قرض کسی طرح دور نہیں ہو سکتا بلکہ برابر بڑھتا چلا جائے گا اور کچھ عرصہ کے بعد ایسا زمانہ آئے گا کہ زمیندار اپنی تمام زمینیں فروخت کر کے ایک سال کا سود بھی ادا نہیں کر سکیں گے- یہ صورت حالات ایسی تشویشناک ہے کہ موجودہ غلے کی ارزانی اس کے مقابلہ میں کوئی بھی حقیقت نہیں رکھتی- پھر کیا تعجب کی بات نہیں کہ ہمارے سمجھ دار زمیندار کہ جن کے دماغوں کے متعلق یورپ کے سیاح یہ رائے ظاہر کرتے ہیں کہ وہ دنیا کے بہترین دماغوں کے مشابہ ہیں‘ اس خطرناک تباہی کا مقابلہ کرنے کے لئے کوئی جدو جہد نہیں کرتے اور انہیں کبھی بھی یہ خیال نہیں آیا کہ وہ سود خوروں کے ہاتھوں میں بھینسوں کی طرح ہیں- جن کا کام محض یہ ہے کہ وہ دودھ تو انہیں دیں اور خود صرف بھوسہ پر گزارہ کریں بلکہ بعض حالات میں بھینسوں