انوارالعلوم (جلد 12) — Page 214
۲۱۴ صاحب ایڈیٹر الامان‘ صوفیاء میں سے جناب خواجہ حسن نظامی صاحب اور ان کے خلیفہ سید کشفی شاہ صاحب نظامی اور پیروں میں سے مولانا ابوبکر صاحب بنگالی کے صاحبزادے مولوی ابو ظفر صاحب‘ بوہرہ قوم کے اعلیٰ رکن سیٹھ محمد علی صاحب‘ اسی طرح سیاسی لیڈروں میں سے ہر حلقہ کے لوگ اور وہ لوگ جنہوں نے اپنی عمریں مسلمانوں کی خدمت میں خرچ کر دی ہیں- پس باوجود ان لیڈروں اور علماء کی شمولیت کے یہ کہنا کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی قادیانی تحریک ہے‘ بہت بڑا ظلم ہے- اور اس سے سوائے اس کے کہ مظلوم کشمیریوں کے کام کو نقصان پہنچے اور کچھ نتیجہ نہیں نکل سکتا- اسی طرح افسوس ہے کہ یہ کہا جاتا ہے کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے سب ممبروں نے استعفاء دے دیا ہے- یہ امر بھی درست نہیں- چنانچہ میں ذیل میں ایک تحریر شائع کرتا ہوں جس سے یہ معلوم ہو جائے گا کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی اب بھی آل انڈیا حیثیت رکھتی ہے اور اس کے ممبر اس پوزیشن کے ہیں کہ گورنمنٹ اور ملک پر اثر ڈال سکتے ہیں اور ایسا اہم کام کر سکتے ہیں جس سے زیادہ کام کوئی اور شاید نہ کر سکے- یہ امر بھی مدنظر رکھنا چاہئے کہ ڈاکٹر سرمحمداقبال صاحب‘ مولانا شفیع داؤدی سیکرٹری آل انڈیا مسلم کانفرنس‘ ڈاکٹر شفاعت احمد خان صاحب بھی اس کے ممبر ہیں اور اس کے کام کو نہایت تن دہی سے انگلستان میں سرانجام دے رہے ہیں- بوجہ ہندوستان سے باہر ہونے کے ان کے دستخط نہیں کرائے جا سکے- ہندوستان کے بعض ممبراں کے بھی بوجہ گھر پر نہ ہونے کے دستخط نہیں کرائے جا سکے- والسلام خاکسار مرزا محمود احمد (اشتہار شائع کردہ عبدالرحیم درد ایم۔اے سیکرٹری آل انڈیا کشمیر کمیٹی) اعلان ہمیں یہ معلوم ہوا ہے کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ یہ کمیٹی ٹوٹ گئی ہے- اس کے ممبران مستعفی ہو گئے ہیں اور یہ کہ کمیٹی کی کسی قسم کی مدد نہ کی جائے وغیرہ- اس لئے ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ یہ بالکل غلط ہے کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی ٹوٹ گئی ہے- یہ کمیٹی خدا کے فضل سے اسی طرح قائم ہے اور اپنا کام پوری کوشش سے کر رہی ہے-جب تک ہمارے ۳۰ لاکھ مظلوم بھائی کشمیر میں آزاد نہ ہوں گے یہ کمیٹی انشاء اللہ