انوارالعلوم (جلد 12) — Page 190
۱۹۰ خبیثوں نے یہ بھی کوشش کی کہ کسی ہندو فاحشہ عورت کو سکھا کر ان کے گھر پر بھیج دیں اور ان پر جبریہ بداخلاقی کا الزام لگا کر انہیں گرفتار کروا دیں- میں یہ نہیں جانتا کہ کسی ذمہ وار ریاستی افسر کا اس میں دخل تھا یا نہیں لیکن یہ یقینی امر ہے کہ اس قسم کی کوششیں بعض لوگ کر رہے تھے- لیکن چونکہ میں نے ان ارادوں کا ذمہ وار حلقوں میں افشاء کر دیا تھا‘ اس لئے وہ لوگ ڈر گئے اور ان ارادوں کے پورا کرنے سے باز رہے- آخر اب مفتی ضیاء الدین صاحب کی جلاوطنی کے موقع پر کہ یہ صاحب بھی ایک اعلیٰ درجہ کے مخلص قومی خادم ہیں‘ ایک لغو بہانہ بنا کر مسٹرعبداللہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے حالانکہ مسٹر عبداللہ امن کے قیام کے لئے کوشاں تھے نہ کہ فساد پیدا کرنے کے لئے- عزیز بھائیو! چونکہ انسان حالات سے واقف ہو کر مخالف کے حملوں سے بچ جاتا ہے بلکہ مشہور ہے کہ دشمن کے منصوبوں سے واقف ہونا آدھی فتح ہوتی ہے- میں آپ کو بتا نا چاہتا ہوں کہ ریاست کے حکام کن چالوں سے آپ کو پھنسانا اور آپ کے حقوق کو تلف کرنا چاہتے ہیں تا کہ آپ لوگ فریب میں نہ آئیں اور اپنے اعلیٰ درجہ کے کام کو کامیابی کے ساتھ فتح کر سکیں- آپ کو معلوم رہنا چاہئے کہ پچھلے مظالم کے وقت میں اور دوسرے ہمدردان کشمیر اس امر میں کامیاب ہو گئے تھے کہ حکومت ہند کی توجہ کو آپ لوگوں کی ناگفتہ بہ حالت کی طرف پھرا سکیں اور اوپر کے دباؤ کی وجہ سے ریاست مجبور ہو گئی تھی کہ اس ظلم کا راستہ ترک کر کے انصاف کی طرف مائل ہو لیکن وہ حکام ریاست جن کا دلی منشاء یہ تھا کہ کسی طرح مسلمانوں کو حقوق نہ ملیں‘ انہوں نے یہ کوشش شروع کر دی کہ کسی اہل کشمیر کی طرف سے ایسے مطالبات پیش کرا دیں جو بالکل غیر معقول ہوں- یا ایسے فسادات کروا دیں جنہیں انگریز ناپسندیدہ سمجھیں- وہ اس کا یہ فائدہ سمجھتے تھے کہ اس طر ح انگریزوں کی ہمدردی مسلمانوں سے ہٹ کر ریاست کے ساتھ ہو جائے گی- دوسری کوشش انہوں نے یہ کرنی شروع کر دی کہ فرقہ وارانہ سوال پیدا کر کے مسلمانوں کی طاقت کو کمزور کر دیں- پہلے مقصد کو پورا کرنے کے لئے انہوں نے بعض مسلمان ذمہ وار لوگوں کو انگریزوں سے لڑوانے کی کوشش کی- چنانچہ جب گلینسی کمیشن مقرر ہوا تو باوجود اس کے کہ مسٹر عبداللہ اور ان کے ساتھی اس امر کا فیصلہ کر چکے تھے کہ جب تک کوئی خلاف بات ظاہر نہ ہو وہ اس