انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 181

۱۸۱ ہے‘ مزید قرض لینے کی بالکل گنجائش نہیں- بہی خواہان کشمیر سے اپیل پس ان حالات کو پبلک کے سامنے لا کر میں تمام بہی خواہان کشمیر سے اپیل کرتا ہوں کہ اس وقت کی نزاکت کو سمجھ کر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی امداد کی طرف متوجہ ہوں چونکہ کشمیر میں خرچ کئی جگہ پر ہو رہا ہے- یعنی سری نگر میں‘ جموں میں اور عنقریب میرپور میں بھی شروع ہوگا اور پھر ہندوستان‘ انگلستان میں بھی‘ اس لئے سب روپیہ مرکزی فنڈ آل انڈیا کشمیر کمیٹی میں آنا چاہئے اور اس کے حساب میں مسلم بنک آف انڈیا لمیٹیڈ لاہور میں جمع ہونا چاہئے- اگر دس پندرہ دن کے اندر دس پندرہ ہزار روپیہ جمع نہ ہو سکا تو کمیٹی کو افسوس کے ساتھ امداد کا کام بند کرنا پڑے گا- وکلاء اور دوسرے کارکن حسرت اور افسوس سے واپس آ جائیں گے اور دونوں کمیشنیں یقیناً مسلمانوں کے لئے بجائے مفید کے مضر ثابت ہونگی- اب بھی روپیہ کے نہ ہونے کی وجہ سے سخت نقصان ہو رہا ہے لیکن اگر فوراً روپے کی آمد شروع نہ ہوئی تو کام بالکل بند ہو جائے گا اور اس کی ذمہداری مسلمانوں کے سر پر ہوگی- میں ہر بہی خواہ سے کہتا ہوں کہ یہ حساب نہ لگائیں کہ باقی شہروں کی رقم سے مل کر آپ کی رقم کافی ہو جائے گی کیونکہ ممکن ہے میری تحریک نے صرف آپ کے دل میں اور آپ کے شہر کے لوگوں میں ہی اثر کیا ہو- پس ہر شخص اس ہمت سے کام کرے کہ گویا سب کام اسی کے ذمہ ہے- آئندہ انشاء اللہ سب آمد کی اطلاع بذریعہ اخبارات بھی شائع ہوتی رہے گی تا کہ سب کو آمد کا اندازہ لگانے کا موقع ملتا رہے- آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی خدمات گو مجھے افسوس ہے کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی خدمات کو باقاعدہ اخبارات میں شائع نہیں کیا جاتا رہا لیکن ان بہت سے ریزولیشنوں کو پڑھ کر جو متواتر سری نگر اور جموں کے پبلک اجلاسوں میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے شکریہ کے طور پر پاس ہوتے رہے ہیں‘ آپ لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا کام نہایت مفید اور ضروری ہے اور اوپر کی تشریح سے اس کی ضرورت خود آپ پر بھی واضح ہو گئی ہو گی- مسلم نمائندگان ِکشمیر کی طرف سے اپیل میں یہ لکھ کر اس تحریر کو ختم کرتا ہوں کہ ریاست کشمیر کے نمائندوں کی مجلس