انوارالعلوم (جلد 12) — Page 157
۱۵۷ وقت آپ کی خاموشی صبر نہ تھی بلکہ کمزوری تھی- صبر اسی حالت کا نام ہے کہ انسان کا دل مقابلہ کو چاہے لیکن پھر وہ اپنے آپ کو کسی اصول کے ماتحت روک لے‘ یہ حالت انسان کی اعلیٰ درجہ کی تربیت کرتی ہے اور اس میں بڑی قابلیتیں پیدا کر دیتی ہے اور اس کاموقع آپ کو ابھی ملا ہے- پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ خواہ کس قدر ظلم ہو آپ لوگ اس کا جواب تشدد سے نہ دیں بلکہ صبر اور قربانی سے دیں اور اس وقت کو تنظیم اور ایثار ا ور قربانی سے خرچ کریں- تب اللہ تعالیٰ کا فضل آسمان سے بھی نازل ہو گا یعنی اس کی براہ راست مدد بھی آپ کو حاصل ہو گی اور زمین سے بھی ظاہر ہو گا یعنی اس کے بندوں کے دل بھی آپ کی مدد اور ہمدردی کے جذبات سے لبریز ہو جائیں گے- دوسری بات میں یہ کہنی چا ہتا ہوں کہ آپ لوگ قطعی طور پر صلح سے انکار کر دیں جب تک کہ آپ کے گرفتار شدہ لیڈر رہا نہ ہو جائیں- یہ مصلحت کے بھی خلاف ہو گا اور غداری بھی ہو گی کہ آپ کے لئے قربانی کرنے والے جیل خانہ میں ہوں اور آپ ان سے بالا بالا صلح کرلیں- جس وقت تک ایک نمائندہ بھی قید میں ہو اس وقت تک صلح کی گفتگو نہیں ہونی چاہئے- جب سب آزاد ہو جائیں پھر سب مل کر اور مشورہ سے اور اتحاد سے اپنی قوم کی ضرورتوں کو مہاراجہ صاحب کے سامنے پیش کریں- تو میں امید کرتا ہوں کہ مہاراجہ صاحب جن پر میں اب تک بھی حسن ظن رکھتا ہوں‘ آپ لوگوں کی تکلیفوں کو دور کریں گے- اور آپ لوگوں کو موقع مل جائے گا کہ اپنے پیار ملک کی ترقی کے لئے دل کی خواہش کے مطابق کام کر سکیں- آخر میں میں پھر سب مسلمانوں کی ہمدردی کا یقین دلاتے ہوئے اس بات کا وعدہ کرتا ہوں کہ انشاء اللہ ہم لوگ اپنی طاقت کے مطابق آپ لوگوں کے لئے ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار ہیں اور انشاء اللہ تیار رہیں گے‘ اس کے لئے کام کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے- والسلام خاکسار مرزا محمود احمد صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی (تاریخ احمدیت جلد۶ ضمیمہ نمبر۱ صفحہ۱‘۲ مطبوعہ ۱۹۶۵ء)