انوارالعلوم (جلد 12) — Page 119
۱۱۹ انسانوں کو جو گدھے سے بھی زیادہ غلام ہیں آزاد کرانا کوئی آسان کام نہیں- انہیں اپنی غلامی میں رکھنے کے لئے ان کا مالک اپنی طاقت کے مطابق انتہائی زور لگائے گا اور مالی‘ جانی قربانی اور تدبیر کا کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کرے گا کہ اس کے غلام اس کے قبضہ میں رہیں- امریکہ میں بھی ایک وقت میں غلامی کا زور تھا- جب وہاں اس کی ممانعت کا اعلان کیا گیا تو دو سال تک وہاں ایسی خوفناک خونریزی ہوئی کہ کوئی گھر باقی نہ رہا جس کا کوئی نہ کوئی فرد مارا نہ گیا ہو- حتی کہ جب کامیابی ہو گئی تو لوگوں نے کہا اس خوشی میں مظاہرہ کرنا چاہئے لیکن پریزیڈنٹ جمہوریہ نے جواب دیا کہ ہمارے لئے خوشی کا کونسا موقع ہے جب کہ ہمارے ملک کے ہر گھر میں ماتم بپا ہو رہا ہے- پس کشمیر میں جو غلامی ہے اسے دور کرنا کوئی معمولی کام نہیں- ہم لوگوں میں سے کوئی خواہ سلسلہ احمدیہ سے تعلق رکھتا ہو یا حنفی المذہب ہو‘ یا اہلحدیث ہو ہر ایک کے دل میں یہی جذبہ ہوگا کہ کشمیری مسلمانوں کے مصائب میں ان کی امداد کی جائے اور جو لوگ اس کمیٹی میں شامل ہوئے ہیں وہ ایک بہت بڑے مقصد کو لے کر کھڑے ہوئے ہیں اور بڑے مقصد کے لئے قربانی بھی ہمیشہ بڑی ہی کرنی پڑتی ہے- اگر میں ایک چھڑی کو اٹھانا چاہوں تو معمولی قوت درکار ہوگی لیکن ایک بڑے پتھر کو اٹھانے کے لئے زیادہ قوت درکار ہوگی اور اگر ایک میز اٹھانی چاہوں تو سینہ کے تمام (MUSCLES) اکڑ جائیں گے اور اس کے لئے پوری توجہ درکار ہوگی- اسی طرح جس مقصد کیلئے ہم کھڑے ہوئے ہیں وہ ایسا نہیں کہ معمولی سی قربانی سے اس میں کامیاب ہو جائیں- چار کروڑ سالانہ آمدنی رکھنے والی ریاست سے ہمارا مقابلہ ہے- وہ یقیناً پورا زور لگائے گی کہ ہم کامیاب نہ ہو سکیں اور دوسری تدبیروں کے علاوہ ہم میں تفرقہ پیدا کرنے کی بھی کوشش کرے گی- انگریزی کی مثل ہے Divide and Rule تفرقہ پیدا کرو اور حکومت کرو یعنی حکومت رعایا میں تفرقہ پیدا کر کے مضبوط ہو جاتی ہے اور اسے کوئی خوف نہیں رہتا- ہمارے ملک میں بھی ایک قصہ مشہور ہے کہ کسی زمیندار کے باغ میں تین شخص داخل ہو گئے اور پھل توڑ توڑ کر کھانے لگے- ان میں سے ایک عام آدمی تھا‘ ایک علم کا مدعی اور ایک سیاست کا دعویدار تھا- باغ کے مالک نے سوچا کہ اگر میں ان سے لڑتا ہوں تو یہ تینوں مل کر مجھے کچل ڈالیں گے اس لئے حکمت سے کام لینا چاہئے- چنانچہ وہ پہلے سید اور عالم کے پاس گیا اور کہا- حضرت آپ تو ہمارے سردار ہیں ہماری چیز آپ کی اپنی ہے لیکن اس جاہل کا کیا حق تھا کہ