انوارالعلوم (جلد 12) — Page 114
۱۱۴ عارضی صلح کر کے معاملہ کو پیچھے ڈالنے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے اور اس میں سراسر مسلمانوں کا نقصان ہوا ہے- اگر انہی شرائط پر صلح کرنی تھی تو بھی مسلمان نمائندگان کو چاہئے تھا کہ اس کے لئے کوئی وقت مقرر کرتے کہ ہمارے اور ریاست کے درمیان یہ صلح مثلاً ایک ماہ تک رہے گی- اس عرصہ میں ریاست کا فرض ہوگا کہ ہمارے مطالبات پر غور کر کے کسی نتیجہ پر پہنچے اگر وہ نتیجہ ہمارے لئے مفید ہوا تو یہ صلح مستقل ہو جائے گی اور اگر ہمیں یہ معلوم ہوا کہ ریاست معاملہ کو بلاوجہ لمبا کرنا چاہتی ہے یا دبانا چاہتی ہے تو ایک ماہ کے بعد دونوں فریق آزاد ہوں گے کہ حسب موقع جو تدابیر چاہیں‘ اختیار کریں- دہلی پیکٹ اور ریاست سے عارضی صلح میں فرق میں اس جگہ پھر یہ امر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اس صلح کو دہلی پیکٹ سے کوئی مناسبت نہیں ہے- دہلی پیکٹ دو صریح اور اہم امور پر مبنی تھا- اول اس پیکٹ کی بنیاد لارڈ ارون (LORD IRWIN)کے اس حتمی وعدہ پر تھی کہ حکومت برطانیہ ہندوستان کو کامل آزادی دینے کا فیصلہ کر چکی ہے دیر صرف تفصیلات کے طے کرنے کی ہے- اور اس قسم کا کوئی وعدہ ریاست کی طرف سے نہیں ہے بلکہ اس کا ہزارواں حصہ بھی نہیں ہے- ریاست تو اس سے بڑھ کر یہ کرتی ہے کہ اپنی شرائط میں حقوق کا کوئی ذکر تک بھی نہیں کرتی- دوسرا فرق یہ ہے کہ دہلی پیکٹ میں جس طرح گورنمنٹ کو اجازت دی گئی ہے کہ اپنے مروجہ قانون کو استعمال کرے اسی طرح کانگرس کو بھی اجازت ہے کہ قانون کے اندر رہ کر اپنا پروپیگنڈا کرے اور اپنی جماعت کو منظم کرے- چنانچہ ان دنوں میں کانگرس نے خاص طور پر اپنے آپ کو منظم کر لیا ہے اور دوبارہ جنگ کے لئے خوب تیار ہو گئی ہے- لیکن اس معاہدہ میں صاف طور پر اقرار کیا ہے کہ ایجی ٹیشن قطعی طور پر بند کیا جائے گا- گویا جس حد تک موجودہ قانون اجازت دیتا ہو اس حد تک بھی ایجی ٹیشن جائز نہ ہوگا- مثلاً اگر کوئی شخص اسلام آباد۳؎ جا کر مسلمانوں کو یہ بتائے کہ ان کے کون کون سے حقوق تلف ہو رہے ہیں جن کے حاصل کرنے کے لئے انہیں کوشش کرنی چاہئے تو یہ موجودہ معاہدہ کے برخلاف ہوگا اور ریاست اس پر معترض ہوگی- کانگرس پر ایسی کوئی پابندی نہیں- وہ صرف اس امر کی پابند ہے کہ گورنمنٹ کے خلاف لوگوں کو اکسائے نہیں لیکن وہ ہندوستانیوں کو اپنے حقوق کے سمجھانے اور ان کے