انوارالعلوم (جلد 12) — Page 113
۱۱۳ مسلمانوں کو کامل مذہبی اور انسانی آزادی دے گی‘ ہاں تفصیلات بعد میں طے ہوں گی- عارضی صلح کا وقت مقرر نہیں کیا گیا (۲) اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ ریاست نے زبانی طور پر کوئی ایسا وعدہ کر لیا ہے کہ مسلمانوں کو ان کے حقوق دے دے گی تو بھی ایک سخت غلطی یہ ہوئی ہے کہ عارضی صلح کا وقت مقرر نہیں کیا گیا- اگر اس معاہدہ کے رو سے ریاست سالہا سال تک اپنے فیصلہ کو پیچھے ڈالتی جائے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا- اور حق یہ ہے کہ رعایا کو اگر کوئی حق آسانی سے مل سکتا ہے تو اگلے پانچ چھ ماہ میں ہی مل سکتا ہے اس کے بعد غیر معمولی قربانیاں کر کے کچھ ملے تو ملے- اس کی وجہ یہ ہے کہ ان دنوں انگلستان میں راؤنڈ ٹیبل کانفرنس ہو رہی ہے اور اس موقع پر بیس کے قریب مسلمان نمائندے وہاں گئے ہوئے ہیں- بوجہ روزانہ ساتھ کام کرنے کے انہیں وزرائے انگلستان پر اثر ڈالنے کا خاص موقع ہے- اسی طرح وہاں کی پبلک پر بھی اثر ڈالنے کا خاص موقع ہے- یہ موقع آئندہ لاکھوں روپیہ خرچ کرنے سے بھی نہیں مل سکتا- میں جہاں تک سمجھتا ہوں‘ ریاست کی غرض ہی یہ ہے کہ یہ دن کسی طرح گزر جائیں اور انگلستان کے پروپیگنڈا کے اثر سے وہ بچ جائیں- یہ نہیں کہا جا سکتا کہ معاہدہ ریاست والوں نے کیا ہے نہ کہ باہر والوں نے‘ کیونکہ معاہدہ کی صورت میں خصوصاً جب کہ اس کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ مسلمانان کشمیر اپنے باہر کے دوستوں سے بھی یہ امید کرتے ہیں کہ وہ ایجی ٹیشن سے بچیں گے‘ باہر کے لوگوں کی بات کا بھی اثر بہت کمزور ہو جاتا ہے- اور ہر سننے والا جو حقیقت سے آگاہ ہو گا صاف کہے گا کہ جب خود باشندگان کشمیر معاہدہ کر کے خاموشی کا اقرار کر چکے ہیں تو تم کون ہو جو خواہ مخواہ شور مچا رہے ہو- غرض لازماً اس طرح باہر کے ایجی ٹیشن کا اثر نہایت ہی کمزور بلکہ بے اثر ہو جائے گا- یہ امر بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ راؤنڈٹیبل کانفرنس کے فیصلہ سے پہلے پہلے انگریزی اثر حکومت ہند میں زیادہ ہے اور اس کو مسلمان اپنی امداد کے لئے زیادہ آسانی سے متحرک کر سکتے ہیں بہ نسبت ہندو عنصر کے جو لازماً راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کے بعد بڑھ جائے گا کیونکہ اس وقت مرکزی حکومت میں ہندوستانیوں کو دخل مل جائے گا جس کا بیشتر حصہ ہندو ہوگا- دوسرے موجودہ تجویز کے مطابق خود ریاستوں کو بھی مرکزی حکومت میں اختیارات ملیں گے پس اس وقت ریاست پر اثر ڈالنا بہت ہی مشکل ہو جائے گا- پس ریاست نے اس وقت