انوارالعلوم (جلد 12) — Page 106
۱۰۶ خلاف ریزولیوشن ہو- اخبار نکالنے کی آزادی ۹ - کشمیر میں اخبار نکالنے کی بھی آزادی نہیں- اس کے خلاف بھی ریزولیوشن ہو کہ انگریزی علاقہ کی طرح وہاں بھی اجازت مل جایا کرے- تقریر کرنے کی آزادی ۱۰ - کشمیر میں تقریر کرنے کی بھی آزادی نہیں- اس کے خلاف بھی ریزولیوشن پاس کیا جائے- زمین کے مالکانہ حقوق کا مطالبہ ۱۱ - کشمیر میں زمین کی ملکیت کے حقوق زمینداروں کو حاصل نہیں ہیں حالانکہ کشمیر انگریزوں سے مہاراجہ کو ملا ہے- پس وہاں کے زمینداروں کے حق پنجاب کے مطابق ہونے چاہئیں- وہاں نہ لوگ بلااجازت زمین فروخت کر سکتے ہیں‘ نہ مکان بنا سکتے ہیں‘ نہ درخت کاٹ سکتے ہیں اور اس طرح غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں- اس کے خلاف بھی ریزولیوشن ہونا چاہئے- ملازمتوں میں حصہ ۱۲ - کشمیر میں مسلمان پچانوے فیصدی ہیں اور سب ریاست میں سترفیصدی مگر ملازمتوں میں ان کو تین فیصدی بھی حصہ نہیں مل رہا- اس کے خلاف ریزولیوشن پاس کئے جائیں اور مسلمانوں کے لئے کم از کم ستر فیصدی ملازمتوں کا مطالبہ کیا جائے- اس وقت ریاست بہانہ یہ کرتی ہے کہ مسلمان تعلیم یافتہ نہیں ملتے حالانکہ تعلیم کی کمی کی ذمہ داری ریاست پر ہے نیز یہ بھی غلط ہے کہ مسلمان تعلیم یافتہ نہیں ملتے- بہت سے گریجوایٹ ریاست میں بیکار پھر رہے ہیں اور یہ بھی غلط ہے کہ ریاست میں عہدے لیاقت پر ملتے ہیں- ریاست میں کئی ڈوگرے اعلیٰ عہدوں پر ہیں اور وہ مڈل پاس بھی نہیں ہیں- مجلس قانون ساز کا مطالبہ ۱۳ - چونکہ مسلمانوں کو جائز طو رپر ریاست کے معاملات میں مشورہ دینے کا موقع حاصل نہیں اور نہ مہاراجہ صاحب تک پہنچنے کا موقع حاصل ہے- وہاں ایک قانون ساز مجلس قائم کی جائے تا کہ مسلمان اپنی آواز مہاراجہ صاحب تک پہنچا سکیں- اور قانون سازی کے وقت ان کی رائے ریاست کو معلوم ہو سکے- اس کے متعلق بھی ریزولیوشن کیا جائے- کشمیر کیلئے علیحدہ وزارت ۱۴ - چونکہ کشمیر کا صوبہ زبان‘ تاریخ‘ تمدن اور مذہب کے لحاظ سے جموں سے بالکل علیحدہ ہے- اس لئے مطالبہ کیا جائے