انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 78

۷۸ کو توڑنے لگے تھے- پس اورنگ زیب نے اس وقت کی کانسٹی ٹیوشن کی تائید کی اس وجہ سے وہ باغی نہ تھا بلکہ اس کا مقابلہ کرنے والے باغی تھے اور اس کے خلاف لکھنے والے آریہ مصنف صرف اس وجہ سے اس کے خلاف لکھتے ہیں کہ اس نے ان کی سازشوں کو تباہ کر دیا اور دوسرے مغل بادشاہوں کے خلاف اس لئے نہیں لکھتے کہ وہ خود ہندو راجاؤں کا آلہ کار تھے- ہندو ریاستوں کے صریح مظالم اگر آریہ اخبارات سیواجی کی اس لئے تعریف کرتے ہیں کہ اس نے ظالم حکومت کا مقابلہ کیا تو میں ان سے پوچھتا ہوں کہ وہ صریح ظلم جو اس وقت بہت سی ہندو ریاستوں میں ہو رہا ہے کیا وہ پسند کریں گے کہ مسلمان بھی سیواجی کی اتباع کر کے اسی کے اصول کو اختیار کر کے ان ریاستوں کے حکام سے وہی معاملہ کریں جو سیواجی نے اورنگ زیب اور اس کے جرنیل افضل خان سے کیا تھا اگر وہ بااصول ہیں اور محض شرارت سے سیواجی کی تعریف نہیں کرتے تو میں ان سے کہتا ہوں کہ وہ اس امر کا کھلے طور پر اعلان کریں کہ سیواجی نے جو کچھ کیا وہ درست تھا اور ویسا ہی معاملہ کرنا ہر اس شخص کے لئے جائز ہے جو خیال کرتا ہو کہ حکومت ظلم کر رہی ہے اور پھر وہ تمام لوگ جو بعض ہندو ریاستوں کے ان شدید مظالم کا جواب دینے کے لئے سیواجی کے اصول پر کھڑے ہوں ان کی تائید کریں اور سیواجی کی طرح ان کی بھی عزت قائم کریں- تب بیشک میں سمجھوں گا کہ ان کا یہ فعل شرافت پر مبنی ہے- آریہ اخبارات اور بھگت سنگھ میں ان آریہ اخبارات سے یہ بھی پوچھتا ہوں کہ اگر سیواجی کا فعل درست تھا تو کیوں وہ بھگت سنگھ کی کھلے طور پر تعریف نہیں کرتے- اس کے معاملہ میں وہ یا تو یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس نے حکومت کے خلاف قتل کا کوئی ارادہ ہی نہیں کیا اور یا پھر یہ کہتے ہیں کہ اگر اس نے ایسا کیا تو اس کا یہ فعل برا تھا گونیت نیک تھی- جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یا تو وہ سیواجی کی تعریف جھوٹے طور پر کرتے ہیں اور یا پھر وہ بھگت سنگھ کے فعل کو برا قرار دیتے ہیں منافقت سے کام لیتے ہیں- ان دونوں صورتوں سے باہر اور کوئی صورت نہیں ہے- اگر اور کوئی صورت ممکن ہے تو وہ اسے پیش کریں- لیکن وہ یاد رکھیں کہ گالیاں دینا اور بات ہے لیکن دلائل سے وہ ان دو صورتوں کے سوا کوئی تیسری صورت ثابت نہیں کر سکتے- پس آریہ یقیناً یا تو سیواجی کی تعریف کرنے میں منافقت سے کام لے رہے ہیں یا بھگت سنگھ کے فعل کو بُرا قرار