انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 620 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 620

۶۲۰ فضائل القرآن(نمبر ۳) no shadow of an objection against it۔۸۴؂ یعنی ہم کس طرح مان سکتے ہیں کہ قرآن میں کوئی تغیرکیا گیاہے۔مسلمانوں میں جب لڑائیاں ہو ئیں تو وہ ایک ہی قرآن رکھتے تھے اور کسی نے کسی فریق کے قرآن کے خلاف کوئی اعتراض نہیں کیا۔اسی طرح لکھتا ہے۔So for from objecting to Othman's revision , Ali multiplied copies of the edition among other MSS۔Supposed to have been written by Ali, one is said to have been preserved at Mashhed Ali as late as the fourteenth century which bore his signature۔۸۵؂ یعنی دوسرے کئی مصنفوں نے بھی قرآن کریم کے جلد سے جلد پھیل جانے اور مختلف لڑنے والے گروہوں کے پاس ہو نے کو اس میں تبدیلی ہونے کے لئے ناممکن بتایاہے۔مگر قرآن کریم کو دیکھو اس نے پہلے ہی اس تفصیل سے اس حقیقت کو ظاہر کر دیا تھا کہ وہ خود ایک زبر دست نشان ہے۔قرآن نے بتا دیا تھا کہ یہ بکثرت لکھا جائے گا۔دور دراز ملکوں میں پھیل جائے گا۔مسلمانوں میں جنگیں ہو نگی اس لئے اسے کوئی بگاڑ نہ سکے گا۔اور یہ ایسی پختہ دلیلیں ہیں کہ عیسائیوں نے بھی انہیں تسلیم کر لیا حالانکہ یہ باتیں اس وقت بیان ہوئیں جب کہ رسول کریم صلی اﷲعلیہ وسلم ابھی مکہ میں تھے اور جب قرآن کے بگڑنے کا کوئی سوال ہی نہ تھا۔سَفَرَۃٍکے ایک معنی جھاڑو دینے اور پردہ اٹھا دینے کے بھی ہو تے ہیں۔اس لحاظ سے آیت کے یہ معنی ہو نگے کہ ا س کتاب کو ایسے لوگوں کے سپرد کیا گیا ہے جو اس خس وخاشاک کو جو تعلیم قرآن پر پڑ کر اسے مسخ کر دینے کاموجب ہوسکتا تھا دور کرتے رہیں گے اور پھر اس کی تعلیم کو اس کی اصلی حالت پر لاتے رہیں گے اور جو اس کے پوشیدہ مطالب کو ظا ہر کرتے رہیں گے۔اور اس کے بلند مطالب کو لوگوں کے سامنے لاکر اس کی قبولیت اور تاثیر کو تازہ کرتے رہا کریں گے جو اس فن کے لوگوں میں کرام ہوں گے یعنی ماہرین فن ہونگے اور بَرَرَۃٍ ہو نگے یعنی امور خیر میں وسیع دسترس رکھنے والے ہو نگے۔اور اس طرح وہ نہ صرف خود خدمت کریں گے بلکہ اور بہت سے خادم بنا کر چھوڑ جائیں گے۔لطیفہ یہ ہے کہ اس آیت میں