انوارالعلوم (جلد 11) — Page 619
۶۱۹ فضائل القرآن(نمبر ۳) دوسرے معنی سَفَرَۃٍ کے سفر کرنے والے کے ہیں۔ان معنوں کی رو سے یہ مطلب ہوا کہ نہ صرف قرآن کریم بکثرت لکھا جائے گا بلکہ فوراً دنیا کہ چاروں گوشوں میں پھیل جائے گا اور اس وجہ سے بگڑنے سے محفوظ ہو جائے گا۔اگر کوئی مصر میں بگاڑنا چا ہے گا تو عرب ،شام ،ہندوستان وغیرہ ممالک میں جو قرآن موجود ہو گاوہ بگاڑ کو رد کر دے گا۔غرض فرمایا یہ کتاب سفر کرنے والے بزرگوں کے ہاتھ میں دے دی گئی ہے تاکہ وہ اسے سارے ملکوں میں لے جائیں۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ہی تمام عرب، افریقہ اورابی سینا میں پہنچ گیا تھا۔پھر رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے چند سال بعد کے عرصہ میں فلسطین، شام، عراق، فارس اور افغانستان،چین ، اناطولیہ ،مصر ، ہندوستان اور یونان وغیرہ ممالک میں پھیل گیا۔پس ان بے غرض لکھنے والوں اور پھر اس طرح سے مختلف ممالک میں پھیل جانے کی وجہ سے اس میں کسی تبدیلی کا پیدا ہو نا ناممکن ہو گیا۔اور پھر ا س میں شک کرنا بھی ناممکن ہو گیا کیونکہ سب ملکوں کے نسخے ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں اور اب تو پریس کے نکل آنے کی وجہ سے اس کی اشاعت کی کوئی حد ہی نہیں رہی۔پھر شروع اسلام میں مسلمانوں میں جو اختلاف ہوا وہ بھی قرآن کریم کی حفاظت کا مؤید ہو گیا۔سَفَرَۃٍ کے معنی اونٹ کی ناک میں نکیل ڈالنے والوں کے بھی ہیں۔اس لحاظ سے ا سکے یہ معنی بھی لئے جا سکتے ہیں کہ مختلف حملہ کرنے والی فوجوں کے افسروں یا جماعتوں کے لیڈر وں کے ہاتھ میں یہ قرآن ہو گا جو سب کے سب نیک ہو نگے۔اور اس طرح مختلف مخالف جماعتوں کے ہاتھوں میں قرآن کریم کا بغیر اختلاف کے ہونا اسے بالکل محفوظ کر دے گا اور کوئی جماعت اسے بگاڑ نہیں سکے گی۔کیونکہ دوسری جماعت فوراً اس پر گرفت کر سکے گی۔یہ دلیل ایسی زبردست ہے کہ دشمن سے دشمن بھی اس کی طاقت کا قائل ہوا ہے مگر کیا یہ عجیب بات نہیں کہ خود قرآن نے ایک مکی سورۃ میں ان سب دلائل کو جمع کر دیا تھا۔سرولیم میور لکھتا ہے۔It is conceivable that ,either Ali, or his party , when thus arrived at power ,would have tolerated a mutilated Coran-mutliated expressly to destroy his claims? yet we find that they used the same Coran as their opponents , and raised