انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 538 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 538

۵۳۸ بعض اہم اور ضروری امور پر اثر انداز ہو سکتی ہیں- ان کی وجہ سے ہم خاموش نہیں رہ سکتے تھے- ہندوستان کے حالات ایسے ہیں کہ اگر ہندوستان والوں کو بغیر حد بندی کے ملکی اختیارات مل گئے تو وہ سب سے پہلے ہم پر ہی ہاتھ صاف کریں گے- اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم ایسی قیود اور پابندیوں کا مطالبہ کریں جو ملک کے امن کو برباد نہ ہونے دیں- اس وجہ سے ہمیں ان معاملات میں دخل دینا پڑا اور ظاہر ہے کہ یہ دخل سیاسی لحاظ سے نہیں بلکہ مذہبی لحاظ سے ہے- اگر ہندو اس قسم کے قوانین نافذ کر دیں جن کی وجہ سے دین کی اشاعت بند ہو جائے جیسا کہ ہندو ریاستوں میں اب بھی اس قسم کی پابندیاں ہیں جن کی وجہ سے مسلمان ہونے والوں کو روکا جاتا ہے تو ہم ہندوستان کے لئے اس قسم کے قانون کس طرح برداشت کر سکتے ہیں اور ہمارا کس طرح گزارہ ہو سکتا ہے- جب کہ ہمارا اوڑھنا، بچھونا، جینا، مرنا دین ہی ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہم کوشش کریں کہ دین کی اشاعت میں رکاوٹ پیدا کرنے والی کوئی بات نہ ہو- اور جب ہم دیکھتے ہیں کہ کسی سیاسی تحریک کا دین بااخلاق پر اثر پڑتا ہے تب ہم دخل دیتے ہیں- جیسے کل گورنر صاحب پر حملہ کے خلاف ہماری طرف سے اظہار نفرت کیا گیا- یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہمیں سیاسیات میں بھی ایسی ہی برتری عطا کی ہے جیسی دوسرے امور میں- اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمیں جو کچھ ملتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ملتا ہے- ہماری اپنی قابلیتوں کا اس میں کوئی دخل نہیں- اب بیسیوں بڑے بڑے سیاست دان یورپ اور ہندوستان کے لوگوں کی تحریریں موجود ہیں جن میں تسلیم کیا گیا ہے کہ ہم نے ہندوستان کے نظم و نسق کے متعلق جو رائے پیش کی ہے وہ بہت صائب ہے- اس قسم کی تحریروں میں سے کچھ سائمن رپورٹ پر تبصرہ کے اردو ایڈیشن میں شائع کر دی گئی ہیں اور بہت سی باقی ہیں جو بعد میں آئی ہیں- غرض خدا تعالیٰ نے اس طرح بھی ہماری برتری تسلیم کرا دی ہے- اس پر ہمیں کوئی فخر نہیں- ہم تو خدمت کرنا چاہتے ہیں اور جب ہماری خدمت کے اچھے نتائج نکلیں تو اس کا اچھا اثر ضرور اہل ملک پر ہوگا- ہم تو اقلیت میں ہیں حکومت دوسری قومیں ہی کریں گی مگر باوجود اس کے ہم جو اتنی محنت اور مشقت برداشت کرتے اور روپیہ صرف کر رہے ہیں کیا اس سے شرفاء پر یہ اثر نہ ہوگا کہ ہم میں اتنی تڑپ کیوں ہے- ضرور انہیں یہ خیال آئے گا کہ ملک اور اہل ملک کی خدمت کی یہ تڑپ حضرت مرزا صاحب نے ہی پیدا کی ہے- اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ادب اور عزت لوگوں میں بڑھے گی اور اس