انوارالعلوم (جلد 11) — Page 537
۵۳۷ بعض اہم اور ضروری امور علی الکاذبین کہتے ہوئے شہادت دی کہ میاں ناصر احمد صاحب نے کوئی دورہ نہیں کیا- حضور نے وضاحت کے ساتھ پیغام کے اس مضمون کی تردید کی اور بتایا کہ میاں ناصر احمد کو خلافت کے لئے دورہ کرانے کا الزام لگانے والے دیکھیں- میں تو وہ ہوں جس نے ۱۹۲۴ء کی مجلس مشاورت میں یہ بات پیش کی تھی کہ کوئی خلیفہ اپنے کسی رشتہ دار کو اپنا جانشین نہیں مقرر کر سکتا- چنانچہ میں نے پیش کیا تھا کہ- ‘’کوئی خلیفہ اپنے بعد اپنے کسی قریبی رشتہ دار کو یعنی اپنے باپ یا بیٹے یا بھائی یا بہنوئی یا داماد کو یا اپنے باپ یا بیٹوں یا بیٹیوں یا بھائیوں کے اوپر یا نیچے کی طرف کے رشتہ داروں کو اپنا جانشین مقرر نہیں کر سکتا- نہ کسی خلیفہ کی زندگی میں مجلس شوریٰ اس کے کسی مذکورہ بالا رشتہ دار کو اس کا جانشیں مقرر کر سکتی ہے- نہ کسی خلیفہ کے لئے جائز ہوگا کہ وہ وضاحتاً یا اشارتاً اپنے کسی ایسے مذکورہ بالا رشتہ دار کی نسبت تحریک کرے کہ اس کو جانشین مقرر کیا جائے- اگر کوئی خلیفہ مذکورہ بالا اصول کے خلاف جانشین مقرر کرے تو وہ جائز نہ سمجھا جائے گا اور مجلس شوریٰ کا فرض ہوگا کہ خلیفہ کی وفات پر آزادنہ طور سے خلیفہ حسب قداعد تجویز کرے اور پہلا انتخاب یا نامزدگی چونکہ ناجائز تھی، وہ مسترد سمجھی جائے گی’‘-۲؎ اب دیکھو غیر مبائعین کی طرف سے یہ الزام اس شخص پر لگایا جاتا ہے جس نے خلافت کے متعلق پیش بندیاں پہلے سے ہی کر دی ہیں تا کہ کوئی ایسی کارروائی نہ کر سکے اور اگر کرے تو اسے مسترد کر دیا جائے- تبلیغی اشتہارات میں نے پچھلے سال تبلیغی اشتہارات شائع کرنے کا اعلان کیا تھا- ایک اشتہار شائع بھی کیا گیا- اس کے بعد یہ معلوم کرنے کے لئے کہ کس قسم کے اشتہار ہوں التواء کیا گیا- اسی دوران میں سیاسی تحریکات ملک میں بڑے زور سے پیدا ہو گئیں اور لوگ سیاسیات میں منہمک ہو گئے- خیال تھا کہ یہ تحریکات جلد ختم ہو جائیں گی مگر یہ لمبی ہوتی چلی گئی ہیں- اب ارادہ ہے کہ اشتہارات کا سلسلہ شروع کر دیا جائے- وہ لوگ اپنا راگ گاتے ہیں تو ہم بھی اپنا راگ گائیں- سیاسیات میں دخل جہاں تک ممکن ہو ہم سیاسیات سے الگ رہتے ہیں لیکن اس سال سیاسی حالات میں ایسا تغیر پیدا ہو گیا اور ایسی باتیں رونما ہوئیں جو دین