انوارالعلوم (جلد 11) — Page 22
۲۲ جائے تو ان معنی سے تواُمّت کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا یہاں مع بمعنی من یعنی " سے" کے ہیں۔قرآن کریم میں یہ استعمال موجود ہے۔چنانچہ آیا ہے۔توفنا مع الأبرار ۴؎ یعنی نیکوں میں سے کر کے مار، یہ معنی نہیں کہ جب کوئی نیک بنده مرنے لگے تو ہمیں بھی اس کے ساتھ وفات دے دے۔پس قرآن کریم سے ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺکی اتباع سے مقام نبوت بھی حاصل ہو جاتا ہے۔یہ یاد رکھنا چاہئے کہ آنحضرت ﷺ کی اتباع سے جو نبی بنے گا۔اس کی نبوت دوسرے انبیاء کے مقابلہ میں ہوتی ہے آنحضرت ﷺ کی نسبت سے وہ امتی ہو تا ہے۔پس ایسی نبوت کے حصول میں آنحضرت ﷺ کی کسر شان نہیں۔حدیث میں آیا ہے لوكان مؤسي و عيسى حیين لما وسعهما إلا اتباعی ۵؎ یعنی اگر موسیٰ اور عیسیٰ زندہ ہوتے تو انہیں میری پیروی کے سوا اور کوئی چارہ نہ ہو تا۔پس اگر نبی کے ماتحت ہونے سے کسر ِشان ہوتی تو رسول کریم ﷺ یہ نہ فرماتے۔حضرت مرزا صاحب باو جود دعویٰ نبوت کے امتی ہونے پر فخر کیا کرتے تھے اور آنحضرت ﷺ کی غلامی کے اظہار میں عزت سمجھتے تھے۔چنانچہ آپ کا یہ مشہور شعر ہے۔کرامت گرچہ بے نام و نشان است بیانگرز غلمانِ محمد اسی طرح آپ اپنے فارسی الہامی قصیدہ میں فرماتے ہیں۔بعد از خدا بعشق محمد مخمّرم گر کفرایں بود بخدا سخت کافرم آپ نے آنحضرت ﷺ کی وہ نعتیں لکھیں جن کا پہلی نعتیں مقابلہ نہیں کر سکتیں۔آپ سے پہلے کی کہی ہوئی نعتیں صرف زلفوں گیسوؤں کے ذکر پر مشتمل ہوتی تھیں۔اور کہ آنحضرت ﷺ کا سایہ نہ تھا وغیرہ۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایسی نعتیں کہیں جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبیوں اور کمالات کا ذکر کیا۔ان نعتوں کا موازنہ صرف مطالعہ سے ہو سکتا ہے۔ایک شخص نے جب مجھ سے سوا کیا آنحضرت ﷺکی جو بھی نعت دیکھی جائے اس میں آپ کے کمالات کا ذکر نہیں ہوتا آپ کی خوبیوں کا ذکر نہیں کیا جا تا صرف گیسوؤں اور