انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 487 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 487

۴۸۷ (۲) ریاستوں کو اس طرح نیابتی حکومت کرنے کی عادت ہو جائے گی اور گو شروع شروع میں وہ صرف اپنے ہم رتبہ لوگوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے لیکن اس عادت کے پڑ جانے کے بعد امید ہے کہ برطانوی ہند کے نمائندوں سے مل کر کام کرنے میں بھی انہیں اعتراض نہ ہو گا- مل کر کام کرنے سے میری مراد یہ ہے کہ اس مجلس کے فیصلوں کے ماننے سے انہیں انکار نہ ہو گا جس میں وہ اپنی تعداد کے مطابق نیابت رکھتے ہوں گے- (۳) اگر اس قسم کی فیڈریشن ریاستوں میں قائم ہو گئی تو ریاستوں کا انتظام بھی پہلے سے اچھا ہو جائے گا- اس وقت فرداً فرداً تو بعض ریاستوں کا بہت اچھا انتظام ہے بلکہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ بعض ریاستوں سے برطانوی ہند بھی بہت کچھ سیکھ سکتا ہے لیکن یکسانیت ریاستوں میں مفقود ہے- بعض ریاستوں کا انتظام ایسا خراب ہے کہ اسے حکومت نہیں کہہ سکتے صرف خدا تعالیٰ کا عذاب کہہ سکتے ہیں- پس اگر فیڈریشن قائم ہو جائے گی تو نیابتیحکومت کی عادت اندرونی معاملات پر بھی اثر انداز ہو گی اور مشترک تصفیہ سے ریاستوں میں ایک یکسانیت بھی پیدا ہو جائے گی- (۴) برطانوی ہند کا نظام خراب ہوئے بغیر برطانوی ہند اور ریاستی ہند مشترک ہو کر کام کر سکیں گے- (۵) اس اشتراک کے نتیجہ میں نوے فیصدی امید ہو گی کہ دونوں حصوں کی مجلسوں میں سمجھوتے کے مطابق قانون پاس ہو جائے- (۶) آئندہ کے لئے دونوں فریق کے فیڈریشن میں شامل ہونے کا راستہ صاف ہو جائے گا- یہ سوال کہ ریاستیں کوئی بڑی اور کوئی چھوٹی ہیں- ان کی فیڈریشن کس اصول پر بن سکتی ہے کوئی زیادہ اہم نہیں کیونکہ اس کا حل ہم پرانی امپیریل جرمن بنڈیسریٹ (BUNDESRAT) کے اصول پر کر سکتے ہیں جس میں کہ جرمن ریاستوں کے نمائندے شامل ہوتے ہیں- ان جرمن ریاستوں کے رقبے اور آبادی میں اس قدر فرق تھا کہ امریکہ کے پریزیڈیٹ مسٹر لاول نے ان کے اتحاد کے متعلق کہا تھا کہ یہ ایک اتحاد ہے جس میں ‘’ایک شیر، نصف درجن کے قریب لومڑیاں اور بیس کے قریب چوہیاں شامل ہیں’‘-