انوارالعلوم (جلد 11) — Page 479
۴۷۹ مزاج شناس بھی ہوں اور ہندوستانیوں کا یہ وہم بھی دور ہو کہ ہمیں الگ فوج میں رکھ کر حکام کی غرض یہ ہے کہ ہم کو پورا موقع ترقی کا نہ دیا جائے- میں حیران ہوں کہ ہندوستانیوں اور انگریزوں کے ساتھ مل کر کام کرنے پر اعتراض کیا گیا ہے- اس وقت تک میں نے ایک ہی اعتراض سنا ہے کہ انگریز افسر ہندوستانی کے ماتحت کام کرنے کے لئے تیار نہیں- اگر یہ درست ہے تو ہندوستانی بھی انتہاء درجہ کے بے غیرت ہوں گے اگر انگریزوں کے ماتحت کام کرنے پر تیار ہوں- اگر اس دلیل کی وجہ سے حکومت دونوں کو الگ کرنے کی کوشش کرتی ہے تو میرے نزدیک حکومت بھی اس جرم کی موید ہے اور ایسی صورت میں اسے ہرگز یہ امید نہیں رکھنی چاہئے کہ ہندوستانی اس کے ساتھ مل کر کام کریں اور اس صورت میں کانگریس کے تمام مظاہرات محض قومی غیرت کا ثبوت ہیں اور اس پر کوئی الزام نہیں آ سکتا- لیکن میں یقین کرتا ہوں کہ لارڈ ارون (LORD IRWIN) جیسا شریفانسان کبھی اس دلیل کا موید نہیں ہوگا- کیونکہ یہ طبیعت تو انتہائی درجہ کی بد اخلاقی پر دلالت کرتی ہے اور لارڈارون ایک اعلیٰ درجہ کے شریف انسان ہیں- یاد رکھنا چاہئے کہ اس بارہ میں طبائع کے اختلاف کو دلیل نہیں قرار دیا جا سکتا- کیونکہ باوجود اس اختلاف کے ہندوستانی افسر انگریزوں کی ماتحتی کرتے ہیں پھر انگریز افسر کیوں ہندوستانی کی ماتحتی نہیں کر سکتا اگر اس میں یہ برداشت نہیں تو وہ ہندوستانی سے بہت کم مہذب ہے اور ہرگز اس قابل نہیں کہ حکومت اس کے ہاتھ میں دی جائے- غرض سکین کمیٹی (SCAN COMMITTEE) کی رپورٹ کے خلاف جو کچھ سنا جاتا ہے وہ معقول نہیں اور اس پر جلد سے جلد عمل کر کے ہندوستانی افسروں کو اس قابل کر دینا چاہئے کہ وہ ہندوستانی فوجوں کا خود انتظام کر سکیں- لیکن اس وقت تک کہ وہ دن آئے جب خود ہندوستانی فوج کی تمام شاخوں کا چارج لے سکیں اور اس کی سب ضرورتوں کو سمجھ سکیں وہی طریق جاری کیا جائے جو میں پہلے لکھ آیا ہوں کہ فوجی سیکرٹری الگ ہو اور اس کا نائب ایک ہندوستانی اسی پینل میں سے منتخب کیا جائے کہ جسے دونوں مرکزی مجالس نے اس غرض کے لئے گورنر جنرل کے سامنے پیش کیا ہو- جہاں تک میں سمجھتا ہوں ایسی سکیم ہر خطرہ سے خالی ہو گی جس میں یہ انتظام ہو کہ فوج کا انتظام تیس سال تک کلی طور پر ہندوستان کی مجالس واضع قوانین کے ہاتھ میں آ جائے اور