انوارالعلوم (جلد 11) — Page 470
۴۷۰ فیصلہ کی تائید کریں تو پھر بہر حال اس کا اجراء کیا جائے- (۳) چونکہ یہ امر بھی ضروری ہے کہ ملکی عنصر کو حکومت کے طریق سے آگاہ کیا جائے اور ایک حد تک اس کا اثر ایگزیکٹو پر بھی ہو- دوسری طرف یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ ڈائی آرکی (DIARCHY) کی موجودہ صورت کو جو فی الواقع مضر ہے دور کیا جائے اس لئے میرے نزدیک ایک درمیانی تجویز یہ مناسب ہو گی کہ ہر انتخاب کے بعد اسمبلی کے ممبر کونسل آف سٹیٹ کے ممبروں سے مل کر تیس آدمیوں کی ایک فہرست تیار کر کے گورنر جنرل کے پاس بھیج دیا کریں جو ان میں سے چند آدمیوں کو منتخب کر کے ان میں سے ایک ایک کو ہر ایگزیکٹو ممبر کے ساتھ پارلیمنٹری سیکرٹری کے طور پر لگا دیں- یہ سیکرٹری تنخواہ دار ہوں اور اسی طرح ڈسپلن کے پابند ہوں جس طرح دوسرے ملازم ہوتے ہیں اور ان کا فرض ہو کہ وہ محکمہ کی پالیسی کی پابندی کریں اور اس کے رازوں کو محفوظ رکھیں اور پورے طور پر اپنے افسر اور گورنر جنرل کے سامنے جوابدہ ہوں نہ کہ اسمبلی کے سامنے- ان کے ساتھ ایک مستقل آفیشل سیکرٹری بھی ہو لیکن یہ فرق نہ کیا جائے کہ چند محکمے مستقل طور پر ان منتخب سیکرٹریوں کے لئے مخصوص کر دیئے جائیں بلکہ دونوں سیکرٹریوں کے جو کام سپرد ہو ان پر باری باری منتخب اور مستقل کارکن لگتے رہیں تاکہ محکمہ کی تمام شاخوں کا منتخب سیکرٹریوں کو علم اور تجربہ ہوتا رہے- اسمبلی کے برخاست ہونے یا کئے جانے پر یہ لوگ بھی کام سے علیحدہ ہو جائیں- اور پھر نئے انتخاب پر نیا پینل تیار ہو جس سے گورنر جنرل نئے وزراء کا انتخاب کریں لیکن اسمبلی کے برخاست ہونے سے پہلے انہیں گورنر جنرل تو علیحدہ کر سکیں لیکن اسمبلی ان کے خلاف کوئی ووٹ پاس نہ کر سکے- اس طرح ایک تو ایگزیکٹو اپنا کام بغیر کسی قسم کی روک کے کر سکے گی دوسرے ایسے لوگ حکومت کا کام کرنے کی مشق پیدا کر لیں گے جن پر مجالس قانون ساز کو اعتبار ہو گا- تیسرے وہ لوگ جو سیکرٹری مقرر ہوں گے باوجود ایگزیکٹو کا جزو ہونے کے بوجہ منتخب مجالس میں سے آنے کے ملک کی صحیح ترجمانی ایگزیکٹو مشوروں کے وقت کر سکیں گے- اورایگزیکٹو پر اپنا اخلاقی اثر ڈال کر اسے ایک حد تک مجالس کے منشاء کے مطابق چلانے میں کامیاب ہو سکیں گے- چوتھے یہ لوگ گورنمنٹ کے لئے بھی مفید ہوں گے کیونکہ بوجہ مختلف پارٹیوں کا نمائندہ ہونے کے اس پر ان کا اثر ہو گا اور