انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 464 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 464

۴۶۴ طریق انتخاب کی رو سے بھی دوسری پارٹی کو کمزور کیا جا سکتا ہے اور وہ اس طرح کہ اس طریق انتخاب میں کسی جماعت کے عدد میں جو زائد کسر ہو اس کی امداد سے وہ دوسرے مذہب کے بعض اپنے زیر اثر آدمیوں کو ممبر کروا سکتے ہیں- اس طرح ان کی کسر بالواسطہ طور پر ان کے کام آ جائے گی اور دوسرے مذہب کی نمائندگی کمزور ہو جائے گی- پس یہ درست نہیں کہ اس صورت میں مسلمان کو خطرہ نہیں اس میں بھی ویسے ہی خطرات ہیں جیسے کہ عام مخلوط انتخاب میں- علاوہ ازیں جہاں مسلمان بہت کم ہیں وہاں اس اصول کے ماتحت ان کے حقوق انہیں نہیں مل سکیں گے- مثلاً صوبہ جات وسطی میں مسلمانوں کی آبادی کل چار فیصدی ہے- گو ان کے ممبروں کی تعداد ۶۰ء۹ ہے- اب اگر فرض کر لیا جائے کہ اس صوبہ سے دس ممبر مرکزیانجمن کے لئے چنے جائیں گے تو اس صوبہ سے ایک بھی مسلمان نہیں چنا جا سکے گا- اسی طرح اور کئی جگہ پر تھوڑی تھوڑی کسر کی وجہ سے مسلمانوں کا سالم ممبر جاتا رہے گا- یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہندوؤں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا کیونکہ اسی بنیاد پر تو مخلوط انتخاب ہندو مانگ رہے ہیں کہ وہ زیادہ تعلیم یافتہ ہیں، زیادہ مالدار ہیں، زیادہ تجربہ کار ہیں اور مسلمان ان کے مقروض ہونے کے سبب سے بہت کچھ ان کے زیر اثر رہتے ہیں- پس یہ امید کرنا کہ اس مخلوط انتخاب سے مسلمانوں کو نقصان نہیں پہنچے گا درست نہیں بلکہ یہ یقینی بات ہے کہ ہندو مالی دباؤ سے بھی اور مسلمانوں کو پھاڑ کر بھی اسلامی نمائندگی کو کم کر دیں گے- یا پھر ایسے لوگوں کو نمائندہ بنائیں گے جو صحیح معنوں میں مسلمانوں کے نمائندے نہیں ہو نگے- میں نے پنجاب کونسل کے بعض ممبروں سے سنا ہے کہ یہ طریق اچھا ہے اس سے مسلمانوں کو نقصان نہیں پہنچے گا کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے تجربہ کیا ہے کہ اس ذریعہ سے ہمارا حق مل جایا کرتا ہے- لیکن اس امر کی موجودگی میں کہ سائمن کمیشن کے ساتھ بیٹھنے کے لئے جو صوبہ کی کمیٹی اسی اصل کے مطابق چنی گئی تھی اس میں دو مسلمان، تین ہندو اور ایک سکھ اور ایک انگریز چنا گیا تھا- کون کہہ سکتا ہے کہ یہ ذریعہ کامیاب ہے- نیز مسلمانوں کا تجربہ پنجاب میں مذہب کی بناء پر نمائندگی کا نہیں ہے بلکہ زمیندار پارٹی کے لحاظ سے ہے اور اس میں شک نہیں کہ پارٹیوں کو ایک حد تک اپنی تعداد کے مطابق ‘’انتخاب مطابق تعداد’‘ کے اصول پر ان کا حق مل جاتا ہے- لیکن مذہب کی بناء پر جس قوم کو نمائندگی کا دعویٰ ہو اس کا حق محفوظ نہیں ہوتا- کیونکہ ایک مذہب