انوارالعلوم (جلد 11) — Page 436
۴۳۶ ایسے ممالک باوجود دور ہونے کے بوجہ زبان کے اتحاد اور رشتہ داریوں کے تعلقات کے آسانی سے متحد رہ سکتے ہیں لیکن وہ ملک جو ایک براعظم کی حیثیت رکھتا ہو اور جس کی زبان بھی مختلف ہو، تہذیب بھی مختلف ہو، قومیت بھی مختلف ہو، مذہب بھی مختلف ہو، اس کی آزادی کے زمانہ میں اس میں برطانیہ سے وابستگی کا احساس پیدا کرانے کے لئے ضروری ہے کہ کچھ نہ کچھ سامان رہے اور اس کا بہترین ذریعہ انگریزی عنصر کی موجودگی ہے- اگر یہ عنصر بھی اس آزادی کے شروع میں کمزور ہو گیا تو کبھی بھی ایک ایمپائر کے فرد ہونے کا وہ احساس ہندوستان میں پیدا نہیں ہو سکے گا جس کے بغیر مجھے کامل یقین ہے کہ ہندوستان کی آزادی آزادی نہیں بلکہ شدید ترین قید ثابت ہو گی- ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ رقابت کا سوال اسی وقت تک زیب دیتا ہے جب تک کہ خیال کیا جاتا ہے کہ برطانیہ نے زور سے ہندوستان کو اپنے قبضہ میں رکھا ہوا ہے لیکن جب برطانیہ آپس کے سمجھوتے کے ساتھ ہندوستان کو نو آبادیوں والی آزادی دینے کے لئے تیار ہو جائے تو ہندوستانیوں کا فرض ہے کہ وہ اپنی قومیت کے نقطہ نگاہ کو بدل کر نہ صرف اپنے آپ کو ہندوستانی سمجھیں بلکہ برطانوی دول متحدہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کا بھی ایک فرد سمجھیں اور جس طرح ایک قومیت کو عزیز سمجھیں، اسی طرح دوسری قومیت کو بھی عزیز سمجھیں- اور اس دن سے انگریز اپنے آپ کو ہندوستان میں ایک اجنبی کی حیثیت میں نہیں بلکہ ایک وطنی کی حیثیت میں محسوس کرے- مجھے اس وقت ایک واقعہ یاد آ گیا ہے جس کا اس جگہ پر بیان کرنا میں ہندوستان اور انگلستان دونوں کے ایک وفات یافتہ دوست کے ذکر خیر کے قائم رکھنے کے لئے ضروری سمجھتا ہوں- وہ باہمی دوست اس وقت اپنے وطن میں اپنے ملک کے دشمنوں میں اگر نہیں سمجھا جاتا تو دوستوں میں بھی نہیں خیال کیا جاتا- میری مراد اس سے مسٹرمانٹیگو MONTAGUE(۔(MR )ہے- جب وہ ۱۹۱۷ء میں بطور وزیر ہند کے ہندوستان کی حالت کا مطالعہ کر کے آئندہ سیلف گورنمنٹ کی سکیم بنانے کے لئے آئے تو میں نے بھی ان سے ملاقات کی خواہش کی تھی- انہوں نے جس دن احمدیہ وفد کو اپنا ایڈریس پڑھنے کا موقع دیا اسی شام کو مجھے بھی ملاقات کا وقت دیا- جب میں ملنے کے لئے گیا تو مسٹر رابرٹ ROBERT(۔MR (ممبر پارلیمنٹ جو ان کے ساتھ ہندوستان آئے تھے دروازہ پر آ کر مجھے اور