انوارالعلوم (جلد 11) — Page 396
۳۹۶ (ANGLOINDIANS) اور ہندوستانی مسیحیوں کی تعداد آٹھ بنتی ہے- اور تجارت کے انگریزنمائندے ملا کر یہ تعداد انیس ہوتی ہے- گویا اکثریت جو چون فیصدی سے کچھ اوپر ہے اس کے کل نمائندے بیالیس اور اقلیت جو پینتالیس فیصدی سے کچھ کم ہے- اس کے کل نمائندے تہتر ہو جاتے ہیں- یعنی پچھتر فیصدی زیادہ حق اقلیت کو دے دیا گیا ہے- اگر انگریز اور مسیحی نمائندوں کو نکال دیا جائے تب بھی ہندو ممبر اپنے حق سے ساٹھ فیصدی زیادہ لے گئے ہیں اور مسلمانوں سے قریباً پچیس فیصدی زیادہ ہیں حالانکہ آبادی میں وہ ان سے بیس فیصدی کم ہیں- یہ اندازے جو میں نے اوپر لکھے ہیں بہت نرم ہیں عملاً جو کچھ ہوتا ہے اس سے زیادہ ہوتا ہے- چنانچہ ۱۹۲۲ء میں منتخب شدہ ممبر چھیالیس ہندو اور انتالیس مسلمان تھے- زمینداروں کی کانسٹی چیوانسی (CONSTITUENCY) میں سے پانچوں ہندو تھے، یونیورسٹی کا ممبر ہندو تھا، تجارتی ممبریوں میں سے گیارہ انگریز اور چار ہندو تھے- ادنیٰ اقوام کا ممبر بھی ہندو تھا- گویا ستاون ہندو اور انتالیس مسلمان تھے- پھر گورنر صاحب نے جو غیر سرکاری ممبر اپنے اختیار سے نامزد کئے وہ چار تھے لیکن انہوں نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ ہندو اپنے حق سے بہت زیادہ لے چکے ہیں انہوں نے بھی بجائے مسلمانوں کی کمی کو پورا کرنے کے ایک مسلمان اور تین ہندو نامزد کئے گویا ساٹھ ہندو اور چالیس مسلمان مقرر ہو گئے اور وہ مسلمان جن کو ہندوؤں کے مقابل پر پچیس فیصدی کی اکثریت حاصل تھی ان پر ہندوؤں کو ساٹھ فیصدی کی اکثریت دے دی گئی- خلاصہ یہ کہ اب جو کچھ ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ پنجاب اور بنگال میں مسلمانوں کی اکثریت کو توڑ کر بنگال میں قانونی طور پر غیر مبدل اکثریت ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف دے دی گئی ہے اور پنجاب میں بھی کم سے کم ۱۹۲۲ء میں ہندوؤں اور سکھوں کو مسلمانوں پر اکثریت حاصل تھی- اب ممکن ہے کہ مساوات حاصل ہو- پس غور کے قابل بات یہ ہے کہ اکثریت کو قانوناً اگر اکثریت دینی جائز نہیں تو اس کی اکثریت کو قانونا توڑ دینا یا کسی ایک اقلیت یا اقلیتوں کے مجموعہ کو قانونی اکثریت دے دینا کس طرح جائز ہو سکتا ہے- اور کیا اس ناواجب طریق کو جاری رکھتے ہوئے سائمن کمیشن کو یہ خیال نہیں گذرا کہ یہ طریق اکثریت کو اکثریت دینے سے زیادہ ظالمانہ ہے؟ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہندوؤں کی اکثریت خاص منافع کی نمائندگی کے سبب سے ہے نہ کہ عام حلقہ ہائے نیابت کی وجہ سے- کیونکہ بنگال میں تو عام حلقہ نیابت میں بھی ہندوؤں کو مسلمانوں کی انتالیس نشستوں کے مقابل پر چھیالیس نشستیں دی گئی ہیں زمینداری، تجارتی،