انوارالعلوم (جلد 11) — Page 395
۳۹۵ کہ ان پارٹیوں کو مستقل میجارٹی (MAJORITY) چھوڑنے کی کیا ضرورت ہے- چوتھی بات جو اس فیصلہ میں خلاف عقل ہے یہ ہے کہ سائمن رپورٹ مسلمانوں کو پنجاب اور بنگال میں ان کی تعداد کے مطابق نیابت دینے سے اس وجہ سے انکار کرتی ہے کہ-: ‘’اس سے مسلمان کو دونوں صوبوں میں معین اور ناقابل تغیر اکثریت حاصل ہو جائے گی’‘- ۵۷؎ گویا سائمن کمیشن کی نگاہ میں کسی جماعت کو خواہ وہ اکثریت ہی کیوں نہ ہو- مستقل میجارٹی (MAJORITY)دینا درست نہیں اور حد سے بڑھا ہوا مطالبہ ہے لیکن اس حد سے بڑھے ہوئے مطالبہ کا علاج وہ یہ کرتا ہے کہ اقلیت کو مستقل میجارٹی دے دیتا ہے- کیونکہ وہ موجودہ طریق کو آئندہ بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کرتا ہے اور موجودہ قانون میں بنگال اور پنجاب میں درحقیقت ہندوؤں کو اکثریت حاصل ہے- پنجاب کے معاملہ کو اگر مشتبہ بھی قرار دیا جائے تو بھی بنگال کا معاملہ تو بالکل واضح ہے- جنرل کانسٹی چیوانسی (GENERAL CONSTITUENCY) میں چھیالیس ہندو ممبر ہیں اور انتالیس مسلمان ممبر ہیں- ادنیٰ اقوام میں سے جو ممبر ہوگا وہ بھی ہندو ہی ہوگا اور ایسا ہی ہوتا ہے اس طرح ہندوؤں کو سینتالیس ممبریاں مل گئیں- لیبر کی طرف سے دو ممبر مقرر ہیں- جن میں سے کم سے کم ایک ہندو ہوگا تو اڑتالیس ہندو ہوں گے- اگر ایک لیبر کا ممبر مسلمان فرض کر لیا جائے- جو عام طور پر نہیں ہوتا تو چالیس مسلمان ہوئے- زمینداروں کی کانسٹی چیوانسی (CONSTITUENCY)کی طرف سے پانچ ممبر ہوتے ہیں- عملاً وہ سب کے سب ہندو ہوتے ہیں لیکن اگر ووٹروں کی تعداد کو مدنظر رکھیں تو فرض کر لیتے ہیں کہ چار ہندو اور ایک مسلمان ہوگا- اس طرح باون ہندو اور اکتالیس مسلمان ہوئے- یونیورسٹی کا ممبر بوجہ ہندو ووٹروں کی تعداد زیادہ ہونے کے لازماً ہندو ہوگا- بہرحال اگر فرض کر لیا جائے کہ یہ ممبر باری باری ہندو مسلمانوں میں سے منتخب ہوتا رہے گا تو اس کو دونوں طرف نہیں ڈالتے- لیکن تجارت چونکہ پورے طور پر ہندوؤں کے قبضہ میں ہے- چار ہندوستانی ممبر سب کے سب ہندو ہونگے- یہ فرض کر کے شاید کبھی مسلمان بھی ہو جائے- ووٹروں کی تعداد کا ایک سرسری اندازہ لگا کر ہم فرض کر لیتے ہیں کہ چار میں سے ایک مسلمان ہو جایا کرے گا اور اس طرح کل ہندو ممبر چون اور مسلمان بیالیس بنتے ہیں- یعنی بارہ کا فرق ہے- انگریز اینگلوانڈین