انوارالعلوم (جلد 11) — Page 298
۲۹۸ رہیں گے تو پھر اسلامی حکومت ہندوستان میں قائم ہو جائے گی’‘- ۲۸؎ پھر یہی صاحب فرماتے ہیں-: ‘’جب تک پنجاب اور ہندوستان بدیشی مذہبوں (یعنی عیسائیت اور اسلام( سے پاک نہ ہوگا تب تک ہمیں چین سے سونا نہیں ملے گا- جو ہندو اس آدرش (مقصد( کو نہیں مانتا وہ کپوت ہے، بے جان ہے، مردہ دل ہے، بے سمجھ ہے، ہر سچے ہندو کی یہ خواہش ہونی چاہئے کہ اپنے دیش کو اسلام اور عیسائیت سے پاک کر دے’‘- ۲۹؎ مہاشہ کرشن ورنیکلر پریس (VERNACULAR PRESS)کے سب سے بڑے مالکوں میں سے ہیں- اور آریہ پرتی مذہبی سبھا کے اہم ترین ممبروں میں سے ہیں- وہ لکھتے ہیں-: ‘’اب وقت دور نہیں سمجھنا چاہئے جب کہ یہ اسلام ہمیشہ کے لئے سرزمین ہند سے غائب ہو جائے گا اور جو شخص خواہ وہ مہاتما گاندھی بھی کیوں نہ ہو- ایسے اسلام کی اشاعت یا ڈیفنس ((DEFENCEمیں بالواسطہ یا غیر واسطہ مدد دے گا وہ ملک اور سوراجیہ کا دشمن سمجھا جائے گا اور کوئی سچا ہندو ایسے اشخاص کے ساتھ اپنا کسی قسم کا تعلق نہیں رکھے گا’‘- ‘’سب سے پہلے آپ کا یہ فرض ہوگا کہ ایسے اسلام کو ہمیشہ کے لئے گنگا جی کے سپرد کر دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب تک مسلمان تبلیغ کو ہندوستان کے اندر سے بند نہیں کریں گے دونوں قوموں میں اتحاد نہیں ہوگا اور جو لوگ وید بھگوان اور رام کرشن کا نام مٹا کر عرب کے ریگستان کی تہذیب اور حضرت محمد کا نام سرزمین ورت میں پھیلانا چاہتے ہیں ان کے ساتھ ہندوؤں کا اتحاد کبھی نہیں ہو سکتا’‘- ۳۰؎ پروفیسر رام دیو جو آریہ سماج کے بڑے لیڈر اور ان کے مرکزی کالج کے پرنسپل رہے ہیں اور بعد میں سیاسی کاموں میں پڑ گئے لکھتے ہیں-: ‘’ہندوستان کی ہر ایک مسجد پر ویدک دھرم یا آریہ سماج کا جھنڈا بلند کیا جائے گا’‘- ۳۱؎ یہی صاحب آریہ سماج کے سالانہ جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے فرما چکے ہیں-: ‘’اسی طرح اب ایک زمانہ آنے والا ہے کہ تمام مسجدیں آریہ مندر بنائے