انوارالعلوم (جلد 11) — Page 297
۲۹۷ سنتھائیں یہ ہیں- مثلاً سنسکرت بھاشا، ہندی بھاشا، ہندو قوم کا اتہاس، ہندو تہوار، ہندو مہاپرشوں کا سمرن، ہندوؤں کے دیش بھارت یا ہندوؤں کے ستھان کا پریم، ہندو قوم کے ساہتیہ کا پریم وغیرہ وغیرہ- پھر جو لوگ آج کل کے نیم عربی، نیم ایرانی مسلمانوں کو قومی تحریک میں خواہ مخواہ شامل کرنا چاہتے ہیں وہ اس صداقت کو نہیں سمجھتے کہ ہر ایک قومی ریاست پرانی قومی سنتھاؤں پر قائم کی جاتی ہے جن سے لوگوں میں یگانگت کا بھاؤ پیدا ہوتا ہے’‘- ۲۵؎ پھر یہی صاحب لکھتے ہیں-: ‘’جب ہندو سنگھٹن کی طاقت سے سوراجیہ لینے کا وقت قریب آئے گا- تو ہماری جو نیتی (پالیسی( عیسائیوں اور مسلمانوں کی طرف ہوگی اس کا اعلان کر دیا جائے گا- اس وقت باہمی سمجھوتہ وغیرہ کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ ہندو مہاسبھا صرف اپنے فیصلہ کا اعلان کرے گی کہ نئی ہندو ریاست میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے کیا فرائض اور حقوق ہونگے اور ان کی شدھی کی کیا شرائط ہونگی’‘- ۲۶؎ اسی طرح یہ صاحب فرماتے ہیں-: ‘’سوراج پارٹی کا اصول ہونا چاہئے کہ ہر ہندوستانی بچہ کو قومی رتن دیئے جائیں خواہ وہ مسلمان ہو یا عیسائی- اگر کوئی فرقہ ان کے لینے سے انکار کرے اور ملک میں دو رنگی پھیلائے تو اس کی قانونی طور پر ممانعت کر دی جائے- یا اس کو عرب کے ریگستان میں کھجوریں کھانے کے لئے بھیج دیا جائے- ہمارے ہندوستان کے آم کیلئے اور نارنگیاں کھانے کا انہیں کوئی حق نہیں’‘- ۲۷؎ یہی لالہ ہردیال صاحب ایک اور موقع پر فرماتے ہیں-: ‘’میں کہتا ہوں کہ ہندو قوم اور ہندوستان اور پنجاب کا مستقبل ان چار آدرشوں (نصب العین) پر منحصر ہے- یعنی (۱)ہندو سنگھٹن (۲) ہندو راج (۳) اسلام اور عیسائیت کی شدھی (۴) افغانستان اور سرحد کی فتح اور شدھی’‘- ‘’اگر ہندوؤں کو اپنی رکھشا کرنی منظور ہے تو خود ہاتھ پاؤں ہلانے پڑیں گے اور مہاراجہ رنجیت سنگھ اور سردار ہری سنگھ نلوہ کی یادگار میں افغانستان اور سرحد کو فتح کر کے تمام پہاڑی قبیلوں کی شدھی کرنی ہوگی- اگر ہندو اس فرض سے غافل