انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 273

۲۷۳ زمانہ سے ہو تو میں ملامت گر کی ملامت کی پرواہ کئے بغیر کہوں گا کہ ہندوستان ہر گز اس قابل نہیں ہے کہ اسے اس وقت کامل آزادی مل جائے فورا ً ڈومینین سٹیٹس مل جانے کو میں برکت نہیں بلکہ عذاب قرار دوں گا- میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ تجربہ سے ہی انسان مضبوط ہوتا ہے لیکن تجربہ کی بھی ایک حد ہوتی ہے- جب اس حد سے زیادہ تجربہ کو لے جایا جائے تو پھر تجربہ ہلاکت کا بھی موجب ہو جاتا ہے- پس یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ ہمیں تجربہ کرنے دو ہم تجربہ سے سیکھ جائیں گے- اگر اس قسم کی آزاد حکومت جو ڈومینین سٹیٹس کہلاتی ہے ہندوستان کو یکدم دے دی جائے تو سب سے بڑی مصیبت یہ ہوگی کہ اسے اس کا تجربہ کرنے کی مہلت بھی کوئی نہ دے گا- باہر کے ممالک کو جانے دو شاید ان کا خطرہ خیالی ہو لیکن ہمارے اپنے اندر لڑنے کی کافی روح موجود ہے- پیشتر اس کے کہ تجربہ ہندوستانیوں کو مضبوط کرے وہ تجربہ کی حد سے آگے نکل چکے ہوں گے اور دنیا تباہی اور بربادی کا ایک ایسا منظر دیکھے گی جو قرون وسطیٰ میں یورپ میں بھی نظر نہیں آیا- ہم ایک وطنیت کے خواہاں لیکن اس صورت میں ہماری قومیت بھی باقی نہیں رہے گی- سٹیج پر کھڑے ہو کر یہ کہہ دینا یا قلم پکڑ کر یہ لکھ دینا کہ ہندوستان اس وقت مکمل آزادی کے قابل ہے آسان ہے لیکن حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا- وہ بحری جہاز کہاں ہیں جو ہمارے ساحل کی حفاظت کریں گے اور ہماری تجارتوں کو بے خطرہ فروغ پانے دیں گے؟ اور وہ فوجیں کہاں ہیں کہ جو ہماری سرحدوں کو بچائیں گی اور ہمارے ملک کے امن کو قائم رکھیں گی؟ اور وہ درس گاہیں کہاں ہیں جو ہماری سیاسی اور ملکی ضرورتوں کو پورا کرنے والے نوجوان ہمیں دیں گی؟ بعض لوگ اس موقع پر کہہ دیں گے کہ ان چیزوں کا نہ ہونا انگریزوں کا قصور ہے- میں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ یہ کس کا قصور ہے؟ سوال تو یہ ہے کہ کیا ان حالات میں فوراً کاملآزاد حکومت مل سکتی ہے؟ کیا یہ کہہ کر کہ یہ انگریزوں کا قصور ہے ہندوستان اس قابل ہو جائے گا کہ فوراً اپنے ملک کے انتظام کو سنبھال لے؟ یہ دھوکا نہیں کھانا چاہئے کہ مثلاً آئرلینڈ نے ایک دن میں آزاد گورنمنٹ حاصل کر لی تھی کیونکہ آئرلینڈ اور ہندوستان میں فرق ہے- آئرلینڈ انگلستان کا ایک جزو تھا اور آزادحکومت کی سب کلیں اس میں اسی طرح موجود تھیں جس طرح کہ آزاد ممالک کی ہوتی