انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 272

۲۷۲ مستحکم بنیاد پر قائم ہو جائے گا- اس وقت بہت سے ممالک جن میں انگلستان بھی ایک فرد ہوگا صرف ایک مرکزی نقطہ سے وابستگی پیدا کر کے ایک آزاد نظام کے حصے ہو جائیں گے اور یا تو ان کے باہم اتصال کے لئے کوئی ایسی وزارت قائم کی جائے گی جو براہ راست کسی ملک کے نظام سے تعلق نہ رکھتی ہوگی اور یا پھر تمام ممالک جو اس نظام کا حصہ ہونگے ان کے وزراء باری باری اس خدمت کو انجام دیں گے اور مساوات اپنی پوری صورت میں ظاہر ہو جائے گی- یہ محض وہم کی پرواز نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا فعل دنیا کو اس طرف لے جا رہا ہے اور محبت کی بنیاد پر اتحاد امم کی ہر سکیم اس کے کسی نظام کو اختیار کرنے پر مجبور ہے- پس جب کہ دنیا کے تغیرات سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کو ملکیت اور قومیت کی قیدوں سے آزاد کرانے اور ایک پائیدار اتحاد میں جکڑنے کے سامان پیدا ہو رہے ہیں تو کیا یہ ہماری بے وقوفی نہ ہوگی کہ ہم جن کو خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس راہ کے اختیار کرنے کی طاقت دی ہے اس موقع کو گنوا دیں اور بجائے دنیا میں اتحاد پیدا کرنے کے شقاق کی راہ کھولیں اور بجائے جوڑنے کے توڑنے لگیں- بے شک انسان کو خدا تعالیٰ نے بہت کچھ طاقتیں دی ہیں لیکن جو قوم اس رو کی خلاف ورزی کر رہی ہوتی ہے جسے خدا تعالیٰ چلاتا ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی اور حوادث کے ساحل پر اس کے جہاز ٹکرا ٹکرا کر غرق ہو جاتے ہیں- پس میں سب نمائندوں سے اور اپنے ملک کے دوسرے باشندوں سے التجا کرتا ہوں کہ وہ اپنے جوشوں پر قابو پاتے ہوئے انگلستان سے علیحدگی کے خیال کو دل سے نکال دیں کہ اس طرح وہ اپنے ملک کو تو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکیں گے لیکن دنیا سے دشمنی کے مرتکب ضرور ہو جائیں گے- الغرض انگلستان سے علیحدہ ہونے کا خیال نہ صرف امکان کے خلاف ہے بلکہ قانون قدرت کے منشاء کے بھی خلاف ہے پس اسے ہمیں بالکل نظر انداز کر دینا چاہئے اور اس سوال پر غور کرنا چاہئے کہ انگلستان سے تعلق رکھتے ہوئے ہندوستان کس حد تک آزادی کا مستحق ہے؟ اگر اس سوال کا تعلق موجودہ زمانہ سے نہ ہو بلکہ آئندہ زمانہ سے ہو تو میں جواب دوں گا کہ ہندوستان ویسی ہی آزادی کا مستحق ہے جیسی آزادی کہ دوسری آزاد نو آبادیوں کو حاصل ہے اور جسے ڈومینین سٹیٹس کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے- لیکن اگر اس سوال کا تعلق موجودہ