انوارالعلوم (جلد 11) — Page 262
۲۶۲ ‘’وہ شاندار جواب جو پنجاب نے برطانوی ایمپائر کی آواز کا دیا اور بھی زیادہ شاندار نظر آتا ہے جب ہم اس امر کو دیکھتے ہیں کہ پچھلی جنگوں کے مواقع پر عموماً اور دوسری افغانی جنگ کے موقع پر خصوصاً یہ ثابت ہو گیا تھا کہ جنگ کے موقع پر کسی بڑی تعداد میں ریکروٹ بھرتی کرنا خواہ ہندوستان کی سرحد پر ہی جنگ کیوں نہ ہو بہت مشکل ہوتا ہے’‘- ‘’سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پنجاب کی نصف سے زیادہ آبادی مسلمان ہے اور جن لوگوں کو دیہاتی مسلمانوں کا صرف سطحی علم تھا وہ خیال کرتے تھے کہ ایسی جنگ کے لئے جو ترکوں کے خلاف تھی اور جو مصر، فلسطین اور عراق جیسے اسلامی ممالک میں جہاں کہ اسلامی مقدس مقامات ہیں لڑی جا رہی تھی مسلمان بھرتی نہیں ہوں گے-۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن یہ سب مایوسانہ خیالات باطل ثابت ہوئے- جنگ کی ابتداء میں صرف ایک لاکھ پنجابی سپاہی تھا لیکن جنگ کے خاتمہ تک پانچ لاکھ آدمی فوجی خدمت کر چکا تھا- دوران جنگ میں اندازاً تین لاکھ ساٹھ ہزار سپاہی بھرتی ہوا تھا- جو کہ کل ہندوستان کی بھرتی کے نصف سے بھی زائد تھا اور ان میں سے نصف پنجاب کے مسلمان تھے جو اس علم کے ساتھ بھرتی ہو رہے تھے کہ وہ ترکوں کے خلاف جنگ کرنے جا رہے ہیں اور جن میں سے شاذو نادر کے سوا باقی سب باوجود سخت کوشش کے جو انہیں غدار بنانے کے لئے کی گئی حکومت کے وفادار رہے’‘- ۴؎ آگے صفحہ ۲۱۹ پر وہ پنجابیوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ-: ‘’انہوں نے شروع جنگ سے ہی بغیر کسی جبر کے دلی شوق سے ہماری آواز پر شاندار طریق سے لبیک کہا’‘- ۵؎ یہ اس شخص کی گواہی ہے جس نے میرے نزدیک انگلستان کے بچانے میں غالباً لارڈکچنر (LORD KITCHENER) اور مسٹر لائڈ جارج GEORGE( (L،ORD کے بعد سب سے زیادہ کام کیا تھا اور جس کی خدمات کا میرے نزدیک سوواں حصہ بھی اعتراف نہیں ہوا اور یہ اس ملک کی قربانی ہے جسے اس جنگ سے کسی حقیقی نقصان کا خطرہ نہ تھا- کہا جاتا ہے کہ یہ خدمات پنجاب کی ہیں لیکن ہم پنجابی اپنے آپ کو باقی ہندوستان سے جدا نہیں سمجھتے- ہمارا صوبہ جنگی اقوام کا وطن ہے اس لئے اس نے لڑنے والی فوج دی- دوسرے