انوارالعلوم (جلد 11) — Page 255
۲۵۵ باب سوم کیا ہندوستان آزادی کا مستحق ہے؟ اگر ہے تو کس حد تک؟ پیشتر اس کے کہ ہم ہندوستان کے آئندہ نظام حکومت پر بحث کریں ہمیں اصولی طور پر یہ دیکھنا چاہئے کہ کیا ہندوستان اخلاقاً یا سیاستاً آزادی کا مستحق ہے اور اگر ہے تو کس حد تک؟ کیونکہ بغیر اس کے کہ ہمارے خیالات اس سوال کے متعلق ایک اصل پر قائم ہوں ہماری بحثیں بالکل فضول اور لغو ہونگی اور سوائے اس کے کہ ہم اور زیادہ پیچیدگیوں میں پڑ جائیں ہمارے مباحثات کا کچھ فائدہ نہ ہوگا- پس سائمن رپورٹ یا کسی اور رپورٹ پر غور کرنے سے پہلے یا انگریزوں اور ہندوستانی نمائندوں کے تفصیلی تبادلہ خیالات سے پہلے اس سوال کا حل کر لینا ضروری ہے- جب اس سوال کا حل ہو جائے گا تو اگلی بحثیں آسانی سے طے ہو سکیں گی ورنہ جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ ہندوستان کو آزادی کا حق ہی حاصل نہیں وہ کس طرح اس بحث کے طے کرنے میں ممد ہو سکتا ہے کہ کس حد تک ہندوستان کو اختیارات دیئے جائیں؟ اور جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ ہندوستان کو فوراً آزاد کر دیا جائے وہ کب اس بحث میں مدد دے سکتا ہے کہ آئندہ سکیم میں کن کن حفاظتی تدابیر کی ضرورت ہے؟ آزادی ہند کے سوال کو ان دو نقطئہ نگاہ سے دیکھنے والے افراد بھی کسی سمجھوتہ کی طرف آ ہی نہیں سکتے- اور اگر وہ ایک دوسرے کی دھمکیوں یا اصرار یا لوگوں کے مجبور کرنے سے کسی سمجھوتہ پر پہنچیں بھی تو یقیناً وہ سمجھوتہ کسی اصل پر مبنی نہ ہوگا بلکہ اس کے مختلف حصے ایک دوسرے کے مخالف ہوں گے- اور ایک حصہ بجائے