انوارالعلوم (جلد 11) — Page 250
۲۵۰ حصّہ اول باب اول اصولی مباحث تمہید اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت اس امر کا فیصلہ کر چکی ہے کہ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں کوئی خاص سکیم غور کرنے کے لئے معین نہیں کی جائے گی لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں سب سے زیادہ توجہ سائمن کمیشن کی رپورٹ حاصل کرے گی- میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستانیوں کے احساسات کو مدنظر رکھتے ہوئے غالباً برطانوی نمائندے اس رپورٹ کا اس قدر کم نام لیں گے جس قدر کہ کام کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے لئے ممکن ہو اور ہندوستانی نمائندے بھی غالباً اس مخالفت کو مدنظر رکھتے ہوئے جو اس رپورٹ کی ہندوستان میں ہوئی ہے اس کا ذکر بہت ہی کم کریں گے سوائے اس کے کہ مخالفت کے رنگ میں ہو- لیکن اس حقیقت کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ خواہ برطانوی نمائندے ہوں خواہ ہندوستانی دونوں کے دماغوں پر یہ رپورٹ حکومت کر رہی ہوگی اور وہ اس کے اثر سے خواہ کس قدر بھی کوشش کریں آزاد نہیں ہو سکتے- اور اس کے دو سبب ہیں- (۱) اول یہ کہ اس رپورٹ کے علاوہ کوئی اور مکمل رپورٹ نہیں ہے جس نے قانونِ اَساسی کی تمام شاخوں پر روشنی ڈالی ہو اور ہر ایک امر کی دلیل دی ہو- نہرو رپورٹ ہے لیکن وہ (الف) ناقص اور نامکمل ہے- (ب) ایسی جماعت نے اسے تیار کیا ہے جو ہندوستانیوں میں سے خاص فوائد کی نمائندہ تھی- اور (ج) اس میں بعض دوسری اقوام کے