انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 242

۲۴۲ امیر جماعت اور منصب امارت کی حقیقت سردست مذہبی تعلیم اور تربیت تک محدود رہے تو اچھا ہوگا- لیکن میں اس بارہ میں کوئی حکم نہیں دینا چاہتا- صرف مشورہ دیتا ہوں کیونکہ میرے نزدیک بہت سا نقصان اس وقت تک ناتجربہ کاری سے صوبہ کی انجمن کو ہوا ہے- والسلام خاکسار مرزا محمود احمد خلیفہ المسیح الثانی ۱۳- دسمبر ۱۹۳۰ء نوٹ-: مقامی مجلس شوریٰ کے مشورہ پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے حسب ذیل نوٹ تحریر فرمایا-: ‘’چونکہ استعفیٰ سے بعض دفعہ غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں اس لئے استعفیٰ دینے سے پہلے بالا افسر سے مشورہ کر لینا ضروری ہے اور میرے نزدیک استعفیٰ کو استئذان سمجھنا موجب شرہوگا- نیز میں اس امر سے بھی متفق نہیں ہوں کہ شوریٰ کے متعلق تفصیلی احکام موجود نہیں ہیں- میرے نزدیک شوریٰ کے متعلق رسول کریم ﷺ کا تعامل واضح ہے- چنانچہ جو مشورہ ایگزیکٹو ہوتا اس میں صرف اپنے انتخاب کردہ لوگوں سے رسول کریم ﷺ مشورہ لیتے تھے اور جو معاملہ تمام قوم پر اثر انداز ہوتا اس میں براہ راست سب لوگوں سے یا ان کے مقرر کردہ نمائندوں سے مشورہ لیتے- پس میرے نزدیک غور اور فکر سے ان سب امور کی تفصیل اسلام سے مل سکتی ہے- گو یہ امر صحیح ہے کہ مکان اور زمان کے تغیرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلام نے ایک حد تک ان امور میں تغیر کرنے کی بھی اجازت دی ہے- مگر اصول ضرور واضح اور معین ہیں اگر وہ نہ ہوں تو ہم ہدایت کہاں سے حاصل کریں- خاکسار مرزا محمود احمد خلیفہ المسیح الثانی مورخہ ۲۵- جنوری ۱۹۳۲ء (الفضل ۱۱- فروری ۱۹۳۲ء)