انوارالعلوم (جلد 11) — Page 241
۲۴۱ امیر جماعت اور منصب امارت کی حقیقت تو ہم کلکتہ کو مرکز بنانے پر مجبور نہ ہوتے لیکن موجودہ حالات میں یہی مناسب ہے کہ سردست کلکتہ ہی بنگال کا مرکز رہے- پس میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ حکیم ابوطاہر صاحب جنہوں نے اپنے گزشتہ رویہ سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ امارت کے منصب کو خوب سمجھتے ہیں انہیں علاوہ کلکتہ کا مقامی امیر ہونے کے تمام بنگال کا بھی امیر مقرر کیا جائے اور آئندہ کے لئے میں انہیں بنگال کا بھی امیر مقرر کرتا ہوں- امیر صوبہ کی مجلس شوریٰ چونکہ صوبہ کے کام کے لئے وہ صرف کلکتہ کے احباب کے مشورہ پر انحصار نہیں کر سکتے اس لئے میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ امیر صوبہ کی ایک مجلس شوریٰ ہو جس میں صوبہ کے تمام مقامی امراء شامل ہوں اور علاوہ اس کے مبلغین سلسلہ بھی اس کے ممبر ہوں- علاوہ ان کے اگر کسی شخص کو خاص طور پر مرکز کی طرف سے اس غرض سے چنا جائے یا صوبہ کی انجمنیں اپنے سالانہ اجتماع میں بعض لوگوں کو خاص طور پر اس کام کے لئے تجویز کریں تو ان لوگوں کو بھی اس مجلس کا ممبر سمجھا جائے- سردست میں علاوہ امراء اور مبلغین کے چوہدری ابوالہاشم خان صاحب، مولوی مبارک علی صاحب اور پروفیسر عبدالقادر صاحب کو اس مجلس کا ممبر مقرر کرتا ہوں- چندہ کے متعلق فیصلہ بنگال کا جس قدر چندہ ہو سوائے خاص تحریکات کے باقی سب چندہ میں سے ۳/۱ (ایک تہائی( بنگال میں رکھا جانے کی میں اجازت دیتا ہوں کہ اس تینتیس فیصدی میں سے پچیس فیصدی تو مرکزی صوبہ کی انجمن کے سپرد ہو اور بقیہ آٹھ فیصدی ہر اک مقام کی انجمن کو اپنے طور پر مقامی تبلیغ پر خرچ کرنے کا حق حاصل ہو- صدقات اور زکٰوۃ میں سے بھی ۳/۱ حصہ بنگال کو وہیں رکھنے کا اختیار ہو اور یہ رقم وہاں کے مستحق غرباء پر خرچ کی جائے اور اس کا اختیار صرف امیر کے ہاتھ ہو کیونکہ ان رقوم کے خرچ کرنے کا انتظام شروع زمانہ اسلام سے خلفاء کے ہاتھ میں چلا آیا ہے- صوبہ کی انجمن فوراً کام شروع کر دے صوبہ کی انجمن کو چاہئے کہ اپنے عہدہ دار مقرر کر کے فوراً صوبہ کے تبلیغی اور تعلیمی کام کو چلانے کے لئے کوشش کرے اور زیادہ تر روپیہ تبلیغ پر خرچ کرے- کیونکہ تعلیم کا خاص انتظام اس وقت غالباً صوبہ کے لئے مشکل ہوگا- جوں جوں جماعت ترقی کرتی چلی جائے گی یہ انتظامات خود بخود پختہ ہوتے چلے جائیں گے اور سہولتیں پیدا ہوتی چلی جائیں گی- تعلیم کا کام