انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 193

۱۹۳ آل پارٹیز کانفرنس کے اجلاس میں ہو چکا ہے اور ان حقوق کو ہر گز قربان نہیں کریں گے جن کا مطالبہ اس کانفرنس کے ذریعہ سے مسلمان کر چکے ہیں- جو لوگ اس امر کے لئے تیار نہ ہوں، ان کے متعلق سمجھ لینا چاہئے کہ وہ ملک کے اعتبار کے قابل نہیں ہیں- اور ان کے متعلق ان کے صوبہ کے لوگ ہر قصبہ اور ہر شہر سے یہ ریزولیوشن پاس کریں کہ وہ ہمارے نمائندے نہیں ہیں- اور ان ریزولیوشنوں کی کاپی لوکل گورنمنٹ ہند کے علاوہ وزیر ہند اور وزیر اعظم برطانیہ کو بھی بھیجی جائے- تا کہ یہ معاملہ پردہ اخفاء میں نہ رہے- نیز یہ فیصلہ کر لیا جائے کہ ان نامزدگان میں سے جو لوگ کونسلوں یا اسمبلی کے ممبر ہوں انہیں اگلے الیکشن کے موقع پر ہر گز ووٹ نہ دیئے جائیں بلکہ ایسے لوگوں کی تائید کی جائے جو ایسے اہم امور میں قومی نمائندگی کے اصول کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہوں- راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں مسلمان ممبروں کا طریق عمل اب ایک سوال رہ جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب کبھی بھی دنیا میں دو جماعتیں فیصلہ کے لئے اکٹھی ہوتی ہیں تو انہیں کچھ نہ کچھ بات دوسروں کی ماننی پڑتی ہے- اب اگر کل یا بعض ممبر راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کے اپنے آپ کو قوم کا نمائندہ تسلیم کر لیں اور اس کے نقطئہ نگاہ کی وکالت کرنے کے لئے تیار ہوں تو وہ بھی اس قاعدہ کلیہ سے آزاد نہیں ہو سکتے- پس سوال یہ ہے کہ وہ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کے موقع پر کیا کریں- اگر وہ اپنے مطالبات پیش کر کے یہ کہیں گے کہ ان کو ماننا ہے تو مانو نہیں تو ہم جاتے ہیں تو سب دنیا ان پر ہنسے گی اور وہ کبھی بھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہونگے- لیکن اگر وہ بعض باتوں کو کانفرنس کے موقع پر چھوڑ دیں گے تو ان کی قوم ان سے ناراض ہو گی- پس اس کا بھی کوئی علاج سوچ لینا چاہئے- مسلمان ممبروں کا نظام اور ان کیلئے ہدایات کا انتظام میرے نزدیک اس کا بہترین علاج یہ ہو سکتا ہے کہ تمام ممبروں کو جو قوم کے نمائندے ہوں یا قوم کی نمائندگی کو تسلیم کر لیں ایک نظام میں منسلک کر دیا جائے اور ان کا ایک سیکرٹری بنا دیا جائے- اس کے بعد آل مسلم پارٹیز کانفرنس کا اجلاس کیا جائے اور اس میں ایک دفعہ اصلاحات کے سوال پر قومی اور ملکی دونوں نقطئہ نگاہ سے غور کر لیا جائے اور ایک مکمل سکیم تجویز کر کے جس میں حکومت کی تمام جزئیات پر بحث ہو انہیں دے