انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 181

۱۸۱ بدلنے کے لئے یہ ضروری ہونا چاہئے کہ کل منتخب شدہ ممبروں کی تعداد سے ۵/۴ حصہ کے اتفاق سے اس میں تغیر کیا جائے نہ کہ حاضر الوقت ممبروں میں سے ۵/۴ کے اتفاق سے کیونکہ بالکل ممکن ہے کہ کسی وقت کسی اختلاف کی وجہ سے ایک حصہ ممبروں کا اسی طرح عدم تعاون میں مشغول ہو جس طرح آج کانگریسی لوگ مشغول ہیں- اور اس سے فائدہ اٹھا کر کثیر التعداد جماعت اپنے مطلب کے مطابق قانون اساسی میں تغیر کرے- حاضر الوقت ممبروں میں سے ۵/۴ کے اتفاق کے ساتھ قانون اساسی کا بدل جانا اس قانون کو نہایت ہی بودی بنیادوں پر قائم کر دیتا ہے- فرقہ وارانہ انتخاب ساتواں تغیر فرقہ وارانہ انتخاب کے عنوان کے نیچے مادہ۳ کے حصہ الف کے نیچے کیا گیا ہے اور اس میں یہ الفاظ بڑھائے گئے ہیں-: ‘’پنجاب اور بنگال میں کسی قوم کی نشستیں محفوظ نہیں کی جائیں گی مگر یہ شرط ہوگی کہ فرقہ وارانہ انتخاب کا سوال اگر کسی قوم نے اٹھایا تو دس سال کے تجربے کے بعد پھر دوبارہ زیر بحث آ سکے گا’‘- یہ زیادتی بالکل بے معنی زیادتی ہے- نیابتی حکومت میں بہرحال کثرت رائے کا فیصلہ جاری ہوگا- اس قانون میں اقلیتوں کو بالکل یہ حق نہیں دیا گیا کہ اگر وہ اصرار کریں تو دسسال کے بعد انہیں محفوظ نشستوں کا حق دے دیا جائے گا- بلکہ صرف یہ ہے کہ یہ سوال پھر زیربحث آ سکتا ہے- زیر بحث آنے کے بعد اگر مرکزی حکومت کی ہندو میجارٹی یہ فیصلہ کرے گی کہ اس قانون میں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں تو نہرو کمیٹی کے ممبر ہمیں سمجھائیں کہ مسلمانوں کے لئے اپنے حقوق کے واپس لینے کا کونسا رستہ کھلا ہوگا- پس یہ زیادتی بالکل دھوکا دینے والی ہے اور لفظی فریب سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی- آٹھواں تغیر اصل فرقہ وارانہ عنوان کے نیچے ساتویں مادے میں کیا گیاہے- اس مادے کے الفاظ یہ تھے- ‘’جس جس جگہ پر بعض قوموں کے لئے نشستوں کو محفوظ کر دیا گیا ہے ان مقامات پر صرف دس سال کے لئے یہ قانون جاری رہے گا’‘- اس میں اب یہ زیادتی کی گئی ہے کہ-: