انوارالعلوم (جلد 11) — Page 180
۱۸۰ مرکزی حکومت کو ایسے قانون کو منسوخ کرنے یا معرض التواء میں ڈال دینے کا پورا اختیار ہوگا- (ب) اگر اس صوبے کی گورنمنٹ کو جس کے قانون کو منسوخ کیا گیا ہو مرکزی حکومت کے فیصلے کے خلاف غیر منصفانہ ہونے کا احتمال ہو تو اسے حق ہوگا کہ وہ عدالت عالیہ میں اس کے خلاف اپیل کرے- صوبوں کے گورنروں کا تقرر چوتھا تغیر صوبہ جاتی مجالس واضع قوانین کے عنوان کے نیچے مادہ نمبر۲۹ میں کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ-: ‘’نہرو رپورٹ میں صوبہ جاتی گورنروں کا تقرر شہنشاہ معظم کے ہاتھ میں رکھا گیا تھا لیکن اب تتمہ میں یہ اختیار گورنر جنرل ان کونسل کو دے دیا گیا ہے’‘- یہ تغیر نہایت ہی خطرناک ہے- اس کے ذریعہ سے مرکزی حکومت نے صوبہ جاتی حکومتوں پر پورے طور پر تصرف کر لیا ہے- گورنروں کا تقرر براہ راست ملک معظم کی طرف سے ہونا چاہئے اور موجودہ پریزیڈنسی گورنروں کی طرح گورنر جنرل کے مشورہ کا بھی اس میں کوئی دخل نہیں ہونا چاہئے- نئے صوبوں کی تجویز پانچواں تغیر مادہ نمبر ۷۲ کے جزو۶ میں کیا گیا ہے- اس تغیر سے معلوم ہوتا ہے کہ پانچ نئے صوبوں کے بنانے کی سفارش کی گئی ہے جن میں ہندو میجارٹی ہوگی- اس تغیر پر اصولاً اعتراض کرنے کا ہم کو حق حاصل نہیں- لیکن اس تغیر سے ہم اتنا ضرور سمجھ سکتے ہیں کہ اس کمیٹی کے ممبروں کے دماغ پر ہر وقت یہ بات غالب رہتی ہے کہ انفرادی لحاظ سے بھی اور صوبہ جاتی لحاظ سے بھی ہندو عنصر مسلمان عنصر پر غالب رہنا چاہئے- قانون کا بدلنا چھٹا تغیر مادہ نمبر۸۷ میں کیا گیا ہے جو یہ ہے- ‘’قانون اساسی کے بدلنے کیلئے حاضر الوقت ممبروں کے ۵/۴ ممبروں کا اتفاق ضروری ہوگا- اصل رپورٹ میں ۳/۲ کے اتفاق کی شرط لگائی گئی تھی’‘- اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس تغیر کی وجہ سے یہ قانون پہلے سے بہت اچھا ہو گیا ہے- لیکن پھر بھی اقلیتوں کے حقوق کی اس سے پوری طرح نگہداشت نہیں ہوتی- قانون ِ اَساسی کے