انوارالعلوم (جلد 11) — Page 128
۱۲۸ مختصر آیات میں حقائق و معارف کی کثرت تیسری خوبی جو قرآن کریم کے ظاہری حسن کو نمایاں کرتی ہے وہ اس کے مضامین کا باوجود اختصار کے مفصل ہونا ہے۔چنانچہ ایک ایک آیت کئی کئی مطالب بیان کرتی چلی جاتی ہے۔اور پھر اس میں علم کلام، علم تاریخ، علم اوامر اور علم نواہی سب ایک ہی وقت میں کام کر رہے ہوتے ہیں اور آئندہ کے لئے پیشگوئیاں بھی ہوتی ہیں۔اس خوبی کی وجہ سے ایک طرف تو قرآن کریم نہایت مختصر ہے اور دوسری طرف جو اس میں عظیم الشان مطالب بیان ہیں وہ بائیبل اور دوسری الہامی کتب میں مل ہی نہیں سکتے۔اس کی ایک مثال میں نے ابھی دی ہے کہ ایک چھوٹی سی آیت میں تین عظیم الشان پیشگوئیاں بیان کی گئی ہیں لیکن اس کے علاوہ قرآن کریم کا کوئی مقام لے لو یہ بات واضح ہوجائے گی۔میں اس کے مزید ثبوت کے لئے پھر پہلی آیت کو ہی لے لیتا ہوں۔اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ کی لطیف تفسیر اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ۔خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔اِقْرَاْ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمُ۔اَلَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ۔عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَالَمْ یَعْلَمْ۔ان چندآیات میں پہلے تاریخ کی طرف اشارہ کیاگیا ہے کیونکہ فرمایا اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ۔پڑھ اس کلام کو۔مگر جب پڑھنے لگوتو یہ کہہ لینا کہ میں اﷲ کا نام لے کر اسے پڑھتا ہوں۔اس میں استثنا باب ۱۸ کی آیت ۱۸، ۱۹ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو یہ ہے کہ۔’’میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا۔اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے فرماؤں گا۔وہ سب ان سے کہے گا۔اور ایسا ہوگا کہ جو کوئی میری باتوں کو جنہیں وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے گا تو میں اس کاحساب اس سے لوں گا‘‘۔۳۳ پس بِاسْمِ رَبِّکَ میں موسیٰ کی اس پیشگوئی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ کے مثیل موسیٰ ہونے کادعویٰ پیش کیا گیا ہے اور نبوت کے تسلسل کا ذکر کیا گیا ہے۔پھر اِقْرَاْ میں تبلیغ کے واجب ہونے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔کئی کلام ایسے ہوتے ہیں جو خود پڑھنے والے کے لئے ہوتے ہیں، دوسروں کوسنانے کے لئے نہیں ہوتے۔مگر اس کلام کے متعلق فرمایا یہ