انوارالعلوم (جلد 11) — Page 127
۱۲۷ ہوتے ہیں ان کا جواب دیا جاتا ہے اور یہ باریک ترتیب اور کسی کتاب میں نہیں ہے۔بائیبل کے متعلق اوتھر لکھتا ہے۔"The Gospels do not keep order in their account of miracles and deeds of jesus۔This is of small moment۔When there is dispute about Holy Writ and no comparison is possible let the matter drop۔"۲۹ Emile Ludwidg in his book "son of man" says, "Almost all the contradictions arise out of the disorderly nature of the reports, "۳۰ The Gospels, the four main sources of Knowledge, conradict one an other in many respects and are upon some points contradicted by the scanty non-Christians authorities۔۳۱ Moreover there is confusion in serial arrangment, a confusion which has been beplored through-out centuries۔۳۲ یعنی بائیبل میں ترتیب واقعات کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔پس اس کے بیانات کے بارہ میں جب کوئی جھگڑا پیدا ہو اور سلجھاؤ کی کوئی صورت دکھائی نہ دے تو اسے چھوڑ دینا چاہیے۔اِیمل لُڈْوِگ(Emil Ludwidg) نے ایک کتاب لکھی ہے جس میں وہ بیان کرتا ہے کہ موجود ہ انجیل ہمیں بالکل بے ترتیب نظر آتی ہے۔وہ اپنی کتاب ’’ابن آدم‘‘ میں اس پر بحث کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ انجیل میں ہمیں جو بھی تضاد نظر آتا ہے وہ واقعات کے بے ترتیبی کی وجہ سے پید اہوا ہے۔اناجیل جو ہمارے علم کے چار بڑے چشمے ہیں کئی امور میں ایک دوسرے کی مخالف بیانات کی حامل ہیں اور غیر عیسائی محققین نے بھی انہیں متضاد قرار دیاہے، اس کے علاوہ ان کی ترتیب میں اس قدر الجھنیں ہیں کہ صدیوں سے خود مسیحی اس پر افسوس کا اظہار کرتے چلے آرہے ہیں۔اسی طرح ویدوں کو پڑھا جائے تو وہاں بھی ترتیب کا کچھ پتہ نہیں لگتا اور یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ ایک واقعہ کا دوسرے واقعہ سے کیا جوڑ ہے۔