انوارالعلوم (جلد 11) — Page 109
۱۰۹ بینۃہے۔تو آیت عام لفظ ہے اور بینۃ خاص۔اس سے مراد وہ دلیل ہوتی ہے جو اپنے لئے آپ شاہد ہوتی ہے۔قرآن کریم کے بینۃ ہونے کا ثبوت اب سوال یہ ہے کہ قرآن کریم کس طرح بینۃ ہے؟ یہ بھی تو دعویٰ ہی ہے کہ قرآن بینۃ ہے اس کے لئے میں کہیں دور نہیں جاتا قرآن کریم کے بینۃ ہونے کا ثبوت اس کی پہلی وحی میں ہی موجود ہے جو رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم پر نازل ہوئی۔باقی کتابیں دوسروں کی دلیلوں کی محتاج ہوتی ہیں مگر قرآن اپنے دعویٰ کی آپ دلیل دیتاہے۔اور قرآن کے بینۃ ہونے کی دلیل ان تین آیتوں میں موجود ہے جو پہلے پہل نازل ہوئیں۔قرآن کریم کا یہ کمال دکھانے کے لئے میں نے سب سے پہلی وحی قرآنی کو ہی لیا ہے سب سے پہلی وحی غار حرا میں نازل ہوئی تھی جب جبرائیل رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو نظر آیا اور اس نے کہا اِقْرَاْ یعنی پڑھ اس کے جواب میں رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مَا اَنَا بِقَارِیءٍ ۱۲ میں پڑھنا نہیں جانتا مطلب یہ تھا کہ یہ بوجھ مجھ پر نہ ڈالا جائے کیونکہ اس وقت آپ کے سامنے کوئی کتاب تو نہیں رکھی گئی تھی جسے آپ نے پڑھنا تھا بلکہ جو کچھ جبرائیل بتاتا وہ آپ کو زبانی کہنا تھا اور یہ آپ کہہ سکتے تھے مگر آپ نے انکسار کا اظہار کیا لیکن چونکہ اﷲ تعالیٰ نے اس کام کے لئے آپ ہی کو چنا تھا اس لئے بار بار کہا کہ پڑھو۔آخر تیسری بار کہنے پر آپ نے پڑھا اور جو کچھ پڑھا وہ یہ تھا اِقْرَأْ بِاِسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَرَبُّکَ الْأَکْرَمُ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ ۱۳ کیا ہی مختصر سی عبارت اور کتنے تھوڑے الفاظ ہیں مگر ان میں وہ حقائق اور معارف بیان کئے گیے ہیں جو اور کتابوں میں ہر گز نہیں پائے جاتے دوسری کتابوں کو دیکھو تو ویدیوں شروع ہوتے ہیں ’’اگنی میئر ھے پروہتم‘‘آگ ہماری آقا ہے۔بائیبل کو دیکھو تو اس میں زمین و آسمان کی پیدائش کا یوں ذکر ہے ’’ابتداء میں خدا نے آسمان کو اور زمین کو پیدا کیا اور زمین ویران اور سنسان تھی اور گہراو کے اوپر اندھیرا تھا اور خدا کی روح پانیوں پر جنبش کرتی تھی۔‘‘۱۴ انجیل کی ابتداء اس طرح ہے :