انوارالعلوم (جلد 10) — Page 580
۵۸۰ ساتواں حق غیر مسلم اقوام کا یہ قرار دیا کہ فرمایا عہد وہی قائم نہیں رکھنا چاہئے جو اپنی قوم کے اندر ہوا ہو بلکہ خواہ کسی قوم سے عہد ہو، اسے قائم رکھنا چاہئے- لوگوں کو یہ بہت بڑی غلطی لگی ہوتی ہے اور اس غلطی میں وہ مسلمان بھی مبتلا ہو گئے ہیں جو قرآن کریم پر تدبر نہیں کرتے کہ غیروں سے جو عہد ہو، اسے توڑ دینا کوئی حرج کی بات نہیں ہے- مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خلاف حکم دیا ہے- چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے- و اما تخا فن من قوم خیانہ فانبذ الیھم علی سواء۱۰؎کہ اگر کوئی قوم عہد توڑ دے تو اسے بتا دینا چاہئے کہ تم نے عہد توڑ دیا ہے، اب ہم پر بھی عہد کی پابندی نہیں، یونہی اس پر حملہ نہیں کر دینا چاہئے- چنانچہ ابوسفیان جب مکہ سے آیا اور آ کر اس نے کہا اب میں نئے سرے سے عہد کرتا ہوں، تو اس موقع پر اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہتے تو اچانک حملہ کر سکتے تھے- مگر آپ نے فرمایا- ابوسفیان تم نے یہ اعلان کیا ہے، میں نے نہیں کیا اور اس طرح بتا دیا کہ ہم حملہ کریں گے- اس کے مقابلہ میں آج کل کیا ہوتا ہے، یہ کہ جب کسی پر حملہ کرنا ہوتا ہے تو اس قسم کے اعلان کئے جاتے ہیں کہ فلاں حکومت سے ہمارے بڑے اچھے تعلقات ہیں- پیچھے اٹلی نے جب ترکی پر حملہ کیا تو اس حملہ سے تین دن قبل یہ اعلان کیا گیا تھا کہ ترکی کے ساتھ ہمارے آج کل ایسے اچھے تعلقات ہیں جیسے پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے- یہ اس لئے تھا تا کہ ترکی بالکل غافل رہے- مگر ابوسفیان نے جب اعلان کیا اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہتے تو آپ پر کوئی ذمہ واری عائد نہ ہوتی تھی- مگر آپ خاموش نہ رہے اور فرما دیا یہ تمہارا اعلان ہے، ہمارا نہیں- اس طرح ان کو بتا دیا کہ ہم حملہ کریں گے- آٹھویں آپ نے یہ تعلیم دی کہ مسلم اور غیر مسلم کے تمدنی حقوق ایک قرار دیئے- یہ بات صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کی جو آپ سے پہلے نہ تھی- یہودیوں کو یہ حکم تھا کہ تم اپنے بھائیوں یعنی یہودیوں سے سود نہ لو، دوسروں سے لے لیا کرو- مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سود نہ یہودیوں سے لو نہ عیسائیوں سے نہ مسلمانوں سے، غرض کسی سے بھی سود نہ لو- سب سے ایک سلوک کرنے کا حکم دیا- اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمدنی سلوک کے بارے میں مسلم اور غیر مسلم کو ایک قرار دیا- نویں تعلیم یہ دی کہ غلاموں کی آزادی میں بھی مسلم اور غیر مسلم کا امتیاز نہیں رکھا- کہا جائے گا قرآن میں مسلمان غلام آزاد کرنے کا حکم آتا ہے- مگر یہ حکم اسی موقع کے لئے ہے