انوارالعلوم (جلد 10) — Page 527
۵۲۷ والے کو یہ مقدرت حاصل ہو جاتی ہے کہ وہ دنیا میں انقلاب پیدا کر دیتا ہے- وہ جدھر رخ کرتا ہے، دنیا اس کے قدموں میں گرتی ہے- دوسری بات قرآن پر عمل کرنے والوں کے متعلق یہ بیان کی کہ اولئک ھم المفلحون- جس مقصد کو لے کر وہ کھڑے ہوں گے، اسے ضرور پا لیں گے- مفلحون کے یہ معنی نہیں کہ بڑے بن جائیں گے- اس کا مطلب یہ قرار دے کر اعتراض کیا جاتا ہے کہ ہم تو دیکھتے ہیں قرآن کو نہ ماننے والے دنیا میں حکومتیں کرتے ہیں، آرام و آسائش کی زندگی بسر کرتے ہیں، عزت و شوکت رکھتے ہیں- ان کے مقابلہ میں قرآن کو ماننے والے کوئی حقیقت نہیں رکھتے، پھر مفلح کس طرح ہوئے- مگر یاد رکھنا چاہے قرآن نے یہ نہیں کہا کہ میرے ماننے والوں کو حکومت مل جائے گی، سلطنت حاصل ہو جائے گی- ایک وقت اور ایک زمانہ کے لئے یہ بھی کہا ہے کہ حکومت بھی ملے گی- لیکن یہ کہیں نہیں کہا کہ دنیا کی حکومت ہی قرآن کی تعلیم پر چلنے والوں کا مقصد ہے- بلکہ یہ کہا ہے قرآن سے تعلق رکھنے والوں کا مقصد یہ ہے کہ دنیا میں روحانیت قائم کریں- اگر اس میں کوئی کامیاب ہو جائے تو وہ کامیاب ہو گیا، چاہے دنیا میں سب سے غریب ہی ہو- پس مفلح کے یہ معنی نہیں کہ کوئی مادی چیز مل جائے- بلکہ جس مقصد کو لے کر کھڑا ہو، اس میں کامیاب ہونے والا مفلح ہے- دیکھو حضرت امام حسینؓ مارے گئے اور بادشاہ نہ بن سکے- لیکن کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ ناکام رہے، ہرگز نہیں- وہ کامیاب ہو گئے اور مفلح بن گئے کیونکہ جس مقصد کو لے کر وہ کھڑے ہوئے تھے، اس میں کامیاب ہو گئے- ان کے سامنے یہ مقصد تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت کے بعض حقوق ایسے ہیں کہ جسے خدا تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہوں، انہیں پھر وہ چھوڑ نہیں سکتا- اس میں ان کو کامیابی حاصل ہو گئی- ان کی شہادت کا یہ نتیجہ ہوا کہ گو بعد میں خلفاء ہوئے مگر ان کو خلفاء راشدین نہیں کہا گیا- کیونکہ حضرت امام حسین کی قربانی نے بتا دیا کہ خلافت بعض شرائط سے وابستہ ہے- یہ نہیں کہ جس کے ہاتھ میں بادشاہت آ جائے و ہ خلیفہ بن جائے- اس طرح دین کو بہت بڑی تباہی اور بربادی سے بچا لیا- اگر یہ نہ ہوتا تو یزید کے سے انسان کے اقوال اور افعال پیش کر کے کہا جاتا یہ اسلام کے خلفاء کی باتیں ہیں- اور اس طرح دین میں رخنہ اندازی کی جاتی- پس اپنے مقصد میں کامیاب ہونے والا مفلح ہوتا ہے، خواہ ایک شہادت چھوڑ