انوارالعلوم (جلد 10) — Page 526
۵۲۶ ذہن میں سے گذرتے ہیں- بہرحال حائضہ کو کپڑے میں ہاتھ لپیٹ کر قرآن کریم کو چھونے یا بغیر کپڑے کے چھونے بلکہ پڑھنےکی بھی اجازت دی گئی ہے- پھر لا یمسہ الالمطھرون کا کیا مطلب ہوا- اس کے متعلق لوگوں کو بہت سی مشکلات پیش آئی ہیں- مگر خدا تعالیٰ نے مجھے اس کے نہایت لطیف معنی سمجھائے ہیں- میرے نزدیک اس کے دو معنی ہیں- ایک معنی تو یہ ہیں کہ سچا اور حقیقی مس یہ ہوا کرتا ہے کہ اس چیز سے تعلق ہو جائے- مثلاً محاورہ ہے فلاں کو تو فلاں مضمون سے مس ہی نہیں- باوجود اس کے کہ ایک لڑکا مدرسہ میں جاتا ہے پورا وقت کلاس میں بیٹھتا ہے مگر استاد اس کے متعلق کہتا ہے اسے تو فلاں مضمون سے مس ہی نہیں- کیا اس پر وہ طالب علم کہہ سکتا ہے کہ استاد کی یہ بات صحیح نہیں- کیونکہ میں روز مدرسہ جاتا ہوں، اس مضمون کی کتاب میرے ہاتھ میں ہوتی ہے پھر کیونکر مجھے اس مضمون سے مس نہیں- بات یہ ہے، استاد کے کہنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اسے اس مضمون سے حقیقی لگاؤ نہیں- ان نتائج کو ہو حاصل نہیں کر سکتا جو اس مضمون کے پڑھنے سے حاصل ہوتے ہیں- لا یمسہ الالمطھرون کے ایک معنی یہ ہیں کہ قرآن کریم اپنے ساتھ فوائد لایا ہے- وہ یہ نہیں کہتا کہ جو میرے ساتھ تعلق پیدا کرے گا، وہ قیامت کو ہی نجات پا سکے گا- اگر قرآن کا صرف یہی دعویٰ ہو تو کوئی یہ کہہ سکتا ہے- مرنے کے بعد اگر کوئی فائدہ نہ ہوا تو پھر کیا کریں گے- قرآن کریم نے اس سوال کو یوں حل کیا ہے کہ کہتا ہے میں اپنے ماننے والوں اور سچا تعلق پیدا کرنے والوں کو اسی دنیا میں انعامات کا وارث بنا دیتا ہوں- یہ ثبوت ہو گا اس بات کا کہ اگلے جہاں میں بھی قرآن کے ماننے والوں کو نجات حاصل ہو گی- چنانچہ قرآن کریم اپنے ساتھ تعلق رکھنے والوں کے متعلق بتاتا ہے- اولئک علی ھدی من ربھم و اولئک ھم المفلحون- ۲؎ کہ ایسے لوگوں کو دو باتیں حاصل ہو جاتی ہیں - ایک یہ کہ ایسے لوگ ہدایت الٰہی پر سوار ہو جائیں گے- ہدایت پر سوار ہونے کا کیا مطلب ہے- یہ کہ جس طرح گھوڑا اپنے سوار کے ماتحت ہو جاتا ہے، جدھر سوار چاہے اسے پھیر لیتا ہے، اسی طرح ہدایت ایسے لوگوں کے تابع ہو جاتی ہے یعنی ایسے انسان کے ذریعہ ہدایت پھیلتی ہے- یہ قرآن کریم کی خاص خصوصیت ہے- دوسری مذہبی کتابیں تو یہ کہتی ہیں کہ ان کے ذریعہ لوگوں کی اصلاح ہو جاتی ہے- مگر قرآن یہ کہتا ہے- اس کی تعلیم پر چلنے