انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 4

۴ اسلام امن وسلامتی کامذہب ہے ایک بات میں شروع میں کہہ دینا چاہتا ہوں کہ ہمارے مذہب کا نام اسلام ہے اور اسلام میں داخل ہونے کا نام ایمان ، اور اسلام کے معنے جہاں اپنے آپ کو کلیتہً خدا کے سپرد کر دینا ہے وہاں اس کے معنوں میں یہ بات داخل ہے کہ مسلم اپنے آپ کو بھی سلامتی میں رکھتا ہے اور دوسروں کو بھی سلامتی بخشتا ہے۔اسلام میں داخل ہونے کا نام ایمان ہے اور یہ لفظ یُمن یا امن سے نکلا ہے۔اور اس کے معنے برکت یا امن کے ہیں اس لئے ایمان کے معنے جہاں مان لینے کے ہیں امن دینے کے بھی ہوتے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ مومن خود بھی امن میں ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی امن دیتا ہے۔قرآن مجید میں خدا تعالی کا نام بھی مؤ من ہے۔اس سے یہ مطلب نہیں کہ وہ کسی دوسرے خدا پر (نعوذبالله) ایمان لاتا ہے بلکہ یہ کہ دنیا امن بخشتاہے۔پس میں اپنے ان دوستوں کو جو اس نام میں میرے شریک ہیں جس کو میں نے اختیار کیا ہے یعنی مسلم اور مومن اور ان دوستوں کو جنہوں نے اس نام کو قبول نہیں کیا بتا دینا چاہتا ہوں کہ:۔میرے مذہب کی بنیاد امن و سلامتی پر ہے اگر اس مذہب کے پیروؤں میں سے کوئی شخص خواہ وہ کوئی بھی ہو اس تعلیم اور مفہوم کے خلاف کرے گا تو اس کا یہ فعل سراسر ناجائز اور ناروا ہو گا اور اس کی ذمہ داری اسی پر ہے نہ اسلام پر۔اگر میں (خدا نخواستہ) تعلیم اسلام کے خلاف کروں تو اس کی ذمہ داری مجھ پر ہوگی نہ میرے مذہب پر۔ایسی حالت میں یہ غلطی ہو گی ان لوگوں کی جو کسی شخص کی ذاتی ذمہ داری کو اسلام یا اس کی تعلیم کی طرف منسوب کریں کیونکہ جس مذہب کا نام اور کام امن اور صلح پر مشتمل ہو وہ اس کے خلاف تعلیم نہیں دیتا جہاں اسلام امن اور صلح کی تعلیم دیتا ہے۔وہاں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ امن کے معنے نفس کو مٹا دینے کے نہیں اور نہ شخصی اور قومی برتری اور حفاظت کے لئے سعی کرنا امن کے خلاف ہے بلکہ اپنی یا قوم کی ترقی کے لئے جائز طریقوں سے سعی کرنا خود حفاظتی اور امن کا ذریعہ ہے۔جس طرح بعض لوگ کسی کے ذاتی فعل کو جو تعلیم اسلام کے خلاف ہو اسلام کی تعلیم قرار دینے میں غلطی کرتے ہیں اسی طرح جب کوئی شخص اپنی یا قومی ترقی اور حفاظت خود اختیاری کے لئے سعی کرتا ہے تو وہ اسے خلاف امن سمجھتے ہیں اور یہ بے انصافی اور غلطی ہے۔دیکھو حکومتیں وہ کسی ملک اور کسی قوم کی ہوں فوجیں اور پولیس رکھتی ہیں اور ان فوجوں اور