انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 396

۳۹۶ فریق کا یکساں لحاظ رکھ لیا جائے اور قوانین ایسے ہوں کہ دونوں کی ضرورت کا خیال ان میں ہو- تو پھر کسی کو شکایت کا موقع نہیں ہو سکتا- میرے نزدیک یہ دعویٰ دونوں معنوں کے لحاظ سے غلط ہے- نہ یہ درست ہے کہ قوموں کے لئے ایک ہی قانون بنایا جائے تو ان میں سے کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ انصاف قائم ہو گیا ہے- اور نہ یہ کہنا درست ہے کہ اگر دونوں قوموں کے حقوق کے ادا کرنے کے لئے ان کی ضرورت کے مطابق انصاف سے قواعد بنا دئے جائیں تو ان کے حق محفوظ ہو جاتے ہیں اور ان میں سے کسی کو شکایت نہیں ہونی چاہئے- پہلی بات کہ جب سارے ملک کے لئے ایک قانون بنا دیا جائے تو کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے کیونکہ انصاف یہی چاہتا ہے کہ سب سے یکساں سلوک ہو- اس لئے درست نہیں کہ سب انسانوں کی حالت برابر نہیں ہوتی نہ سب پر قانون کا ایک سا اثر پڑتا ہے- بلکہ بعض پر زیادہ اور بعض پر کم- اور جب قانون کا اثر نمایاں طور پر ایک خاص گروہ پر پڑتا ہو اور دوسری قوم پر اس کا اثر بالکل نہ پڑتا ہو یا بہت کم پڑتا ہو تو ایسا قانون ہر گز منصفانہ نہیں کہلا سکتا- مثال کے طور پر دیکھ لو کہ اگر ہندوستان میں یہ قانون پاس کر دیا جائے جیسا کہ بعض میونسپل کمیٹیاں اب قریب قریب ایسا کر بھی رہی ہیں کہ گائے ذبح نہ کی جائے- تو کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ قانون سب کے لئے برابر ہے- ہندوؤں کے لئے بھی اور مسلمانوں کے لئے بھی اس لئے انصاف کے مطابق ہے- اس قانون کے متعلق یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ قانون برابر ہے- بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ اس قانون کا مضر اثر کس پر پڑتا ہے- اور یہ ظاہر ہے کہ ہندو تو خود ہی گائے نہیں ذبح کرتا- پس گو اس قانون میں ہندو مسلمان کو برابر رکھا جائے، مگر اس کا اثر صرف مسلمانوں پر پڑے گا- یا مثلاً اگر پنجاب کی آئندہ حکومت ¶یہ قانون پاس کر دے کہ زمین سب گورنمنٹ کی ہوگی یا سندھ میں ایسا قانون بن جائے- تو گو اس کا کچھ اثر ہندوؤں پر بھی پڑے گا- لیکن زیادہ تر اس کا اثر مسلمانوں پر ہی پڑے گا اور انہیں کو نقصان پہنچے گا- یا مثلاً تجارت پر اگر زیادہ ٹیکس لگا دیا جائے- جس سے تجارت کا تباہ کرنا مقصود ہو تو کوئی نہ کہے گا کہ اس کا اثر مسلمانوں پر بھی برابر پڑتا ہے- ہر عقلمند سمجھ لے گا کہ اس قانون کا اصل مقصد ہندوؤں کو نقصان پہنچانا ہے- پس یہ بات بالکل غلط ہے کہ جب یکساں قواعد بن جائیں تو کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے- ایک ایسے گھر میں جس میں بچے بھی ہوں اور بڑے بھی، اگر ایسی غذا پکا دی