انوارالعلوم (جلد 10) — Page 395
۳۹۵ امر دلیل بن جاتا ہے- یہ عجیب بات ہے کہ ہماری ہندوستان کی اکثریت یعنی ہندو صاحبان نہرورپورٹ کے ذریعہ سے جس حقیقت کو ہم سے منوانا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ چھوٹی اقلیتوں کو حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ بڑی اقلیتوں کو اور لکھتے ہیں کہ-: ‘’چھوٹی اقلیتوں کو حفاظت کی ضرورت ہو سکتی ہے جو سب مل کر دس فیصدی بنتیہے’‘-۳۰؎ اس کے مقابلہ میں استھونیا (ESTHONIA) کی حکومت جو روس کی سابقہ حکومت سے الگ ہو کر بنی ہے- اور جس میں اقلیتوں کی تعداد دس فیصدی ہے ۳۱؎وہ لیگ آف نیشنز کے مطالبہ پر کہ ان کے ملک میں بھی اقلیتوں کی حفاظت کا قانون جاری ہونا چاہئے لکھتی ہی کہ-: ‘’ہمارے ملک کی اقلیت اتنی چھوٹی ہے کہ اس کے حقوق کی حفاظت کی ضرورت ہی نہیں’‘- ۳۲؎ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ہندوستان کی اکثریت مسلمانوں کو اس لئے حفاظت کا حق نہیں دینا چاہتی کہ ان کی تعداد اتنی کم نہیں کہ انہیں کسی حفاظت کی ضرورت ہو- ہاں دس فیصدی والیاقلیت حفاظت کے لئے قوانین کا مطالبہ کر سکتی ہے- لیکن استھونیا کی اکثریت لکھتی ہے کہ ہمارے ہاں کی اقلیتوں کو کسی خاص حفاظت کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ وہ ‘’اتنی تھوڑی ہیں’‘ کہ صرف دس فی صدی ہیں- پس چونکہ اقلیت کی تعداد زیادہ نہیں ہے، اس لئے کوئی ضرورت نہیں ہے کہ اس کی حفاظت کے لئے الگ قوانین بنائے جائیں- مگر ہر عقلمند سمجھتا ہے کہ دونوں جوابوں کا مفہوم ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ اقلیت خواہ چھوٹی ہو یا بڑی، اکثریت اسے اس کا حق دینے پر راضی نہیں ہے- بلکہ وہ ہر قسم کے بہانے بنا کر اسے تباہ کرنا چاہتی ہے- کیا یکساں قواعد تجویز کرنا انصاف کیلئے کافی ہے اس اصل کو غلط ثابت کرنے کے بعد کہ خوف کے لحاظ سے چھوٹی اور بڑی اقلیتوں میں کوئی فرق ہوتا ہے- اب میں دوسرے دعویٰ کو لیتا ہوں- جو یہ ہے کہ یکساں قواعد کا تجویز کرنا انصاف کے قیام کے لئے کافی ہے- میں نے اس دعویٰ کے لئے یکساں کا لفظ استعمال کیا ہے تا کہ اس لفظ میں انصاف اور مساوات دونوں مفہوم آ جائیں- کیونکہ اس دعویٰ کی دو ہی شقیں ہیں- ایک یہ کہ سب کے لئے ایک ہی قانون ہو تو اس سے انصاف قائم ہو جاتا ہے اور کسی کو کوئی شکایت کا موقع نہیں ہو سکتا- اور دوسری شق یہ ہے کہ اگر دونوں