انوارالعلوم (جلد 10) — Page 389
۳۸۹ قلیل التعداد جماعتوں کی حفاظت کے لئے ایک دستاویز لکھی گئی جو تاریخ میں ‘’آٹھ دفعات’‘ کے نام سے مشہور ہے اس کی دفعہ دو یہ ہے- ‘’قانون اساسی کی ان دفعات میں کوئی تبدیلی نہ ہو سکے گی جو تمام مذاہب کو یکساں حق اور آزادی عطا کرتے ہیں- اور سب شہریوں کو خواہ ان کا کوئی مذہب ہو- سرکاریعہدوں اور اعزازوں کا مستحق قرار دیتے ہیں’‘-۲۲؎ پھر دفعہ چار یہ ہیں کہ-: ‘’تمام باشندگان نیدرلینڈز اس طرح برابر کے حقوق حاصل کر کے تمام ایسے تجارتی اور دوسرے حقوق پر یکساں دعویٰ رکھیں گے، جن کی ان کے حالات اجازت دیتے ہیں- اور کوئی روک یا مشکل ان کے راستہ میں نہ ڈالی جائے گی- جس سے دوسریقوم زیادہ فائدہ حاصل کر لے’‘-۲۳؎ چونکہ اس وقت تک صرف مذہب ہی اختلاف کا موجب سمجھا جاتا تھا- اس لئے اسی کا ذکر اس معاہدہ میں کیا گیا تھا- گو بعد میں ثابت ہوا کہ اکثریت اقلیت کو تباہ کرنے کے لئے اور ذرائع بھی ایجاد کر لیتی ہے- چنانچہ نیدرلینڈز میں فلیجنگ زبان کو دبا کر جو اقلیت کی زبان تھی، اقلیت کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی- اس کے بعد ۱۸۳۰ء میں یونان کی حکومت کے قیام کے وقت ۱۸۶۳ء میں جزائر آیونین کی علیحدگی کے وقت ۱۸۵۶ء میں رومانیہ کی علیحدگی کے وقت کانگرس آف برلن میں ۱۸۷۸ء میں سرویا مانٹینگرو اور بلغاریہ کے علاقوں کے متعلق اقلیتوں کی حفاظت کی ضرورت کو تسلیم کیا گیا اور ایسے قوانین تجویز کئے گئے کہ اقلیتوں کے حقوق تلف نہ ہو سکیں- جنگ عظیم کے بعد یورپ میں نئی تبدیلیاں ہوئیں تو پولینڈ، لتھیونیا، لٹویا، استھونیا، آسٹریا، ہنگری، رومانیا، زکوسلویکا ،(CZECHOSLOVAKIA) یوگوسلیویا (YUGOSLAVIA) سے خاص معاہدات لئے گئے، جن کا نام معاہدات متعلق اقلیت ہے- ان معاہدات میں اس امر کی پوری کوشش کی گئی ہے- کہ اقلیتوں کے حقوق اکثریتوں کے دستتصرف سے محفوظ رہیں- اوپر کے واقعات سے معلوم ہوتا ہے- کہ اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت صدیوں سے زیربحث ہے اور اقوام عالم اس کی اہمیت کو تسلیم کر چکی ہیں- اور اس وقت عام طور پر یہ امر