انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 388

۳۸۸ ایک دوسرے سپین کا نظارہ پیدا نہ کریں کہ ہمارے رونے کے لئے پہلا سپین ہی کافی ہے- میں یہ نہیں کہتا کہ ہندوستان کی آزادی کے لئے کوشش نہ کرو- اب جب کہ انگلستان نے خود فیصلہ کر دیا ہے کہ ہندوستان کو نیابتی حکومت کا حق ہے، اس لئے جو جائز کوشش کی جائے، میں اس میں اپنے دوسرے بھائیوں کے ساتھ شریک ہوں- مگر جو چیز مجھ پر گراں ہے اور میرے دل کو بٹھائے دیتی ہے وہ یہ ہے کہ مسلمان اپنے حقوق کی حفاظت کئے بغیر آئندہ طریق حکومت پر راضی ہو جائیں- اس کے نتائج نہایت تلخ اور نہایت خطرناک نکلیں گے اور مسلمانوں کو چاہئے کہ جب تک کہ دونوں مسلم لیگز کی پیش کردہ تجاویز کو قبول نہ کر لیا جائے، اس وقت تک وہ کسی صورت میں بھی سمجھوتے پر راضی نہ ہوں گے ورنہ جو خطرناک صورت پیدا ہو گی اس کا تصور کر کے بھی دل کانپتا ہے- یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ نہرو کمیٹی کے مخالف جو مسلمان ہیں خواہ مسلم لیگ کے ممبر ہوں خواہ خلافت والے خواہ دوسرے لوگ، ان کے وہ مطالبات جو میں اوپر لکھ آیا ہوں، اگر ان کی بناء پر فیصلہ ہو تو پھر مسلمانوں کو فیصلہ کی تبدیلی کا خوف نہیں رہتا- کیونکہ اس صورت میں مسلمانوں کے حقوق محفوظ ہو جاتے ہیں- اور اگر بعد میں ان احتیاطوں کے ضرورت نہ رہے تو قوانین کا تبدیل کرنا کچھ مشکل نہ ہو گا- کیونکہ ان کے بدلنے میں مسلمانوں کا فائدہ نہیں بلکہ ہندؤوں کا فائدہ ہو گا اور ہندو اس تبدیلی کی مخالفت نہیں کریں گے- کیا قلیل التعداد جماعتوں کو خاص قوانین کی ضرورت ہوتی ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے کہ جو مدتوں سے زیر بحث ہے- رومی امپائر (EMPIRE) نے یہودیوں کے متعلق چند سال کے لئے عارضی طور پر اور اسلامی حکومت نے ابتدائے عہد سے غیر مسلموں کے متعلق ایسے قوانین کو جاری کیا تھا کہ جن سے اقلیتوں کی حفاظت ہو سکے- قسطنطنیہ کی فتح پر محمد ثانی نے مسیحیوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے خاص قواعد بنائے- جن کا بیشتر حصہ فروری ۱۹۲۶ء تک جاری رہا- جبکہ ترکی حکومت نے اسلامی قوانین کی جگہ سوئیٹزرلینڈ کا قانون دیوانی اپنے ملک میں جاری کر دیا- لیکن اس سوال کو بین الاقوامی حیثیت سب سے پہلے ۱۸۱۴ء میں حاصل ہوئی ہے- جبکہ کانگریس آف وینا (VIENNA) نے یونائیٹڈ نیدر لینڈ (UNITEDNETHERLAND) کی نئی حکومت قائم کی- چونکہ اس ملک میں دو مذہب اور دو زبانیں بولی جاتی تھیں- اس لئے