انوارالعلوم (جلد 10) — Page 331
۳۳۱ جماعت احمدیہ بقول ‘’پیغام صلح’‘ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے منکر ہیں اس لئے ہمیں کوئی حق نہ تھا کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین قرار دے کر ان کی عظمت کے اظہار کے لئے جلسے کرتے- ہمارا ایسا کرنا ایک دھوکا تھا جو ہم دنیا کو دے رہے تھے- اس مضمون کی مولوی محمد علی صاحب نے اپنی زبان سے ایک معزز رئیس سردار حبیب اللہ صاحب کے سامنے تائید کی ہے- جنہوں نے خود میرے سامنے بہ موجودگی اپنے نانا صاحب اور ہماری جماعت کے بعض افراد کے اس امر کی شہادت دی کہ مولوی صاحب نے مجھ سے کہا تھا کہ ہمیں ان جلسوں پر یہ اعتراض تھا کہ باوجود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین نہ ماننے کے ان لوگوں نے خاتم النبین کے نام کے نیچے آپ کی تعظیم کے اظہار کے لئے جلسے کیوں کئے ہیں- پیغام صلح کی اشاعت ۲۷-جولائی ۱۹۲۸ء میں اوپر کے بیان کی تصدیق بھی ہو گئی ہے کیونکہ اس میں مولوی محمد علی صاحب الفضل کی ایک ڈائری کی تردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ میں نے سردار حبیب اللہ صاحب سے کہا تھا کہ-: ‘’مگر جن لوگوں کا ختم نبوت پر ایمان نہیں اور آنحضرت صلعم کے بعد نبوت کا سلسلہ جاری کرتے ہیں ان کا دنیا میں یہ اعلان کرنا کہ ہم یوم خاتم النبین منائیں گے دنیا کو دھوکا دینا ہے کہ لوگ یہ خیال کریں کہ واقعی یہ لوگ نبوت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم مانتے ہیں’‘- ۱؎ پھر لکھتے ہیں کہ-: ‘’جب میاں صاحب اور ان کے مرید آنحضرت صعلم پر نبوت کو ختم نہیں مانتے تو یوم خاتم النبین سے لوگوں کو دھوکا ہوگا یا نہیں- کیونکہ عام مسلمان خاتمالنبین کے معنی یہی جانتے ہیں کہ نبوت آنحضرت صلعم پر ختم ہو گئی اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا’‘- ۲؎ ان حوالوں سے ظاہر ہے کہ مولوی صاحب نے اس بیان کی جو سردار حبیب اللہ صاحب ممبر لیجسلیٹو کونسل پنجاب کی زبانی مجھے معلوم ہوا تھا تحریراً بھی تصدیق کر دی ہے اور اب ان کی اور پیغام صلح کی تحریروں سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ انہوں نے جو ۱۷/جون کے جلسوں کی مخالفت کی تھی اس کے اسباب مندرجہ ذیل تھے-