انوارالعلوم (جلد 10) — Page 267
۲۶۷ اسی طرح عیاش مرد عورت کو خوش کرنا اور اس کی خواہشات کو پورا کرنا ضروری سمجھتا ہے، تاکہ وہ اس کی طرف زیادہ سے زیادہ رغبت کرے- وہ عورتوں میں بے انصافی کرتا ہے- ایک کو چھوڑ کر دوسری کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے- دوسری کو چھوڑ کر تیسری کی طرف- کیونکہ سب کی طرف توجہ کرنا اس کے مزے کو خراب کرتا ہے- اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عیاش مرد عورتوں میں زیادہ وقت صرف کرتا ہے- کیونکہ اس کے بغیر اس کی عیاشی کے میلان پورے ہی نہیں ہو سکتے- یہ نو باتیں ایسی ہیں کہ ان کے بغیر یا کم سے کم ان میں سے بعض کے بغیر دنیا میں کوئی عیاش ہو نہیں سکتا اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کیا یہ باتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی ہیں؟ شراب پہلی چیز شراب ہے سو دیکھو کہ ایک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات ہے جنہوں نے دنیا میں شراب کو قطعاً حرام کیا ہے- پہلی اقوام میں شراب کو محدود کرنے کی کوشش تو کی گئی ہے- لیکن اسے بالکل نہیں روکا گیا سوائے اسلام کے- اب سوچو کہ اگر آپ میں عیاشی کا کوئی شائبہ بھی ہوتا تو آپ کی قوم اگر پہلے پانچ دفعہ شراب پیتی تھی تو آپ انہیں حکم دیتے کہ آٹھ دفعہ پیو- اور اگر آٹھ دفعہ پیتی ہوتی تو آپ انہیں کہتے کہ بارہ دفعہ پیا کرو- لیکن آپ نے شراب کو بالکل اور قطعاً حرام قرار دے دیا- کوئی نہیں کہہ سکتا کہ آپ نے شراب کو اس لئے حرام کیا کہ آپ کے تقدس پر لوگ حرف گیری نہ کریں- کیونکہ آپ کے ملک کے لوگ ہی نہیں بلکہ دنیا کے لوگ بھی اس زمانہ میں شراب کو تقدس کے خلاف نہیں سمجھتے تھے- عرب کے کاہن اور ایران کے موبد ۱۵؎اور روم کے پادری اور ہندوستان کے پنڈت شراب میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے تھے اور شراب تقدس کے خلاف نہیں بلکہ شراب عبادات کا ایک جزو اور ریاضات کا ایک ذریعہ سمجھی جاتی تھی- پس ایسے وقت میں پبلک اوپینین (OPINION) کا خیال کر کے شراب کو حرام کرنے کا خیال بھی کسی شخص کے دل میں نہیں آ سکتا تھا- پس اگر عیاشی کا ایک خفیف سا میلان بھی آپ میں پایا جاتا جیسا کہ آپ کے دشمن خیال کرتے ہیں- تو آپ شراب کو ہر گز منع نہ فرماتے بلکہ اپنے ملک کے رواج کو جو ملک کے بڑے اور چھوٹے کی فطرت ثانیہ بن چکا تھا جاری رہنے دیتے- ہاں کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ آپ کو عیاشی کے لئے شراب کی ضرورت ہی نہ تھی-