انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 256

۲۵۶ بیوی کی شہادت چونکہ خاوند کی سب سے زیادہ راز دان بیوی ہوتی ہے اس لئے میں آپ کی پاکیزہ زندگی کے متعلق آپ کی بیوی کی بھی ایک شہادت پیش کرتا ہوں- یہ شہادت لوگوں کے سامنے نہیں دی گئی کہ اس میں بناوٹ کا شبہ ہو- بلکہ علیحدہ گھر میں دی گئی ہے- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ۲۵ سال کی عمر میں ایک چالیس سالہ عمر کی عورت سے شادی کی- ۲۵ سال کی عمر میں مرد پورا جوان ہوتا ہے- اور چالیس سالہ عورت بڑھاپے کی طرف جا رہی ہوتی ہے- اس عمر کا نوجوان اول تو پہلے ہی ایسے رشتہ کو ناپسند کرتا ہے اور اگر رشتہ ہو جائے تو ناگوار حالات رونما ہو جاتے ہیں- وجہ یہ کہ ایسی عمر میں مرد کی خواہشات اور ہوتی ہیں اور عورت کی اور- لیکن رسول کریمصلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کے ۱۵ سال بعد نبوت کا دعویٰ کیا- اس وقت حضرت خدیجہ ؓ کی عمر ۵۵ سال کی تھی اور آپ کی عمر چالیس سال کی- اس پندرہ سال کے عرصہ میں حضرت خدیجہ نے جو نتیجہ نکالا، وہ یہ تھا کہ جب آپ کو الہام ہوا اور آپ اس بات سے گھبرا گئے کہ میں کہاں اور یہ درجہ کہاں- اور آپ نے حضرت خدیجہ سے ذکر کیا تو انہوں نے آپ سے کہاکلا واللہ مایخزیک اللہ ابدا- انک لتصل الرحم و تحمل الکل و تکسب المعدوم و تقری الضیف وتعین علی نوائب الحق ۶؎ فلا یسلط اللہ علیک الشیطین والاوھام والا مراء ان اللہ اختارک لھدایہ قومک-۷ ؎ حضرت خدیجہ الہام نازل ہونے کا ذکر سن کر فوراً کہتی ہیں- نہیں نہیں- خدا کی قسم- خدا کبھی آپ کو ضائع نہ کرے گا- آپ اپنے رشتہ داروں سے حسن سلوک کرتے ہیں- کبھی کوئی بے کس آپ کو نظر نہیں آیا جس کا آپ نے بوجھ نہ اٹھایا ہو- سارے عرب میں یہ خوبیاں نہ تھیں آپ نے زندہ کیں- کوئی مسافر آپ کے پاس نہیں آیا جس کی مہمانی آپ نے نہ کی ہو- کسی پر جائز مصیبت نہیں پڑی جس کی مدد کے آپ تیار نہ ہو گئے ہوں- پس کبھی آپ پر خدا تعالیٰ شیاطین کو مسلط نہ کرے گا- اور کبھی خدا آپ کو مجنون نہ کرے گا- پس اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کو خدا تعالیٰ نے اپنی قوم کی ہدایت کے لئے چن لیا ہے- یہ اس عورت کی گواہی ہے جس نے چالیس سال کی عمر میں پچیس سالہ مرد سے شادی کی تھی- اور اس مرد سے شادی کی تھی جو غریب تھا اور ایسی حالت میں شادی کی تھی کہ کئی